.

اسرائیل کے چیف ربی خلاف بدعنوانی کے الزامات کی دوبارہ تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے مغربی یہودی فرقے"اشکینازی" کے سابق چیف ربی یونا متسجرکے خلاف کرپشن اور کالا دھند سفید کرنے کے الزامات کی از سر نو تحقیقات شروع کی ہیں۔ ساٹھ سالہ متسجر10 سال تک ملک کے پیشوائے اعظم کے عہدے پر فائز رہے ہیں، تاہم انہوں نے جنوری 2013ء میں اس وقت اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جب انہیں بدعنوانی کےالزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسرائیلی پولیس نے پچھلے سال نومبر میں مسٹر یونا کو گرفتار کرکے ان کے خلاف جاری کرپشن کیس کی تفتیش کی تھی۔ تاہم الزام ثابت نہ ہونے پر انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

اسرائیلی پولیس برائے انسداد بدعنوانی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ یونا متسجر کے خلاف لاکھوں ڈالر کی بدعنوانی کے الزامات ہیں، جن کی تحقیقات کے لیے انہیں دوبارہ حراست میں لیا جائے گا۔

بیان کے مطابق پولیس نے بیت المقدس کے پراسیکیوٹر جنرل کے ہاں مقدمہ دائر کیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد معاملہ مرکزی پراسیکیوٹر جنرل کو بھجوائے گا جو کیس کی روشنی میں الزامات کی صحت کے بارے میں بتائے گا۔

خیال رہے کہ اسرائیل میں مشرقی [السفاردیم] اور مغربی [اشنکنازی] یہودیوں کے نمائندہ دو چیف ربی اعلیٰ ترین مذہبی عہدوں پر منتخب کیے جاتے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات دینی امور، مذہبی عدالتوں کی نگرانی اور شخصی اور عائلی زندگی میں مذہبی حقوق حتیٰ کہ شادی بیاہ اور طلاق جیسے امور کے نگران سمجھے جاتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یونا متسجر کےخلاف کرپشن کے الزامات سنہ 2005ء میں پہلی بار سامنے آئے تھے جس کے بعد انہیں عدالتی کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے کئی سال کیس جاری رکھا مگر گذشتہ برس مقدمہ ناکافی ثبوت کی بناء پر خارج کردیا گیا تھا۔ ان پر بیت المقدس کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل سے غیر قانونی طور پر خدمات لینے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔