.

ویلنٹائن ڈے منانا''غیراخلاقی'' ہے:سعودی عالم

سعودی مذہبی پولیس کی مغرب زدہ ''یوم محبت'' کے موقع پر ہرسرخ چیز کے خلاف مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج دنیا بھر میں منچلے نوجوان پریمیوں کا دن (ویلنٹائن ڈے) منارہے ہیں لیکن بیشتر مسلم ممالک میں اس دن کو منانے کے حوالے سے دو آراء پائی جاتی ہیں۔مغرب زدہ طبقہ اس کو منانے کے حق میں ہے جبکہ اسلامی اقدار کے متوالے ایسے ایام منانے کے سخت مخالف ہیں جن کی اسلامی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ہے اور جو مغربی اساس رکھتے ہیں۔

دوسرے ممالک کے علاوہ اسلام جائے پیدائش سعودی عرب میں بھی اب ضبط کے بندھن ٹوٹ رہے ہیں اور وہاں بھی ویلنٹائن ڈے ایسی خرافات آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنا رہی ہیں اورنوجوان ''وینٹائن ڈے''ایسے ایام منانا شروع ہوگئے ہیں جبکہ علمائے دین اس کی مخالفت کررہے ہیں اور معاشرے کو مغرب زدہ ہونے سے بچانے کے لیے اپنی سعی کررہے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے اور ایسی ہی سرگرمیوں کی مخالفت میں پیش پیش سعودی عرب کے معروف مگر متنازعہ عالم دین شیخ محمد العریفی نے ٹویٹر پر ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ''جو مسلمان بھی یہ دن منائیں گے ،وہ بدکرداری کے مرتکب ہوں گے''۔

انھوں نے لکھا کہ ''ٹی وی چینلز اور دوسرے میڈیا ذرائع کو کسی بھی طریقے سے ویلنٹائن ڈے کے فروغ کے لیے کردار نہیں ادا کرنا چاہیے''۔واضح رہے کہ شیخ عریفی کو متنازعہ فتاویٰ کے اجراء پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔انھوں نے ماضی میں سعودی نوجوانوں پر زوردیا تھا کہ وہ شام میں جاکر جہاد میں شریک ہوں لیکن وہ اس وقت خود یورپی ممالک میں چھٹیاں منارہے تھے۔انھوں نے العربیہ کی مادرکمپنی ایم بی سی کے بچوں کے چینل کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی تھی اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ ایم بی سی 3 چینل سے نشر ہونے والے کارٹونز بچوں کو غلط راہ پر ڈال رہے ہیں۔

سعودی علماء اور دوسرے راسخ العقیدہ حضرات ویلنٹائن ڈے منانے کی اپنے طور پر تو مخالفت کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں بھی یہ دن منانے کی ریت چل پڑی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہورہی ہے۔سعودی عرب کی محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر المعروف مذہبی پولیس نے گذشتہ سال 14 فروری کو سرخ گلاب بیچنے والی دکانوں پر چھاپہ مار کارروائیاں کی تھیں۔

اس مرتبہ مذہبی پولیس کے سربراہ عبداللطیف آل شیخ نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ پھول بیچنے والی دکانوں کو بند کرنے کے کوئی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔البتہ انھوں نے خاص طور پر ویلنٹائن ڈے کے موقع پر پھول بیچنے والی دکانوں کو بند کرانے کا واضح ذکر نہیں کیا۔

انھوں نے بدھ کو سعودی اخبار الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''یہ ہماری اختصاصیت نہیں ہے بلکہ ہم قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی خلاف ورزی کے مخالف ہیں''۔

تاہم لندن سے شائع ہونے والے اخبار العرب نے اپنی جمعہ کی اشاعت میں لکھا ہے کہ ''محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر سرخ رنگ کی ہر چیز کے خلاف ایک کھلی جنگ شروع کررکھی ہے۔خواہ یہ سرخ پھول ہوں،سرخ شرٹ ،سرخ ہیٹ یا حتی کہ سرخ کار ہو''۔

اس اخبار نے مزید لکھا ہے کہ ''اس سب سے کے باوجود سعودی عرب میں ویلنٹائن ڈے مرے گا نہیں اور اس کے خلاف جنگ ک؛ے باوجود یہ جاری وساری رہے گا''۔اخبار کی ''یوم محبت'' کے لیے اس حمایت کے باوجود سوشل میڈیا پر بہت سے نوجوانوں نے اس کی مخالفت کی ہے اور لکھا ہے کہ''مسلمانو! یہ دن مناتے وقت اپنے ان بھائیوں کو بھی یاد رکھو،جو انھی لوگوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے جن کی نقالی میں تم یہ دن منارہے ہو''۔

درایں اثناء انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے اپنے بین الاقوامی زائرین کے لیے ہوم پیج پر دل کی تصویر بنائی ہے لیکن سعودی عرب کے لیے ''یوم محبت'' پر ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا اور اس کے ہوم پیج کو حسب معمول سادہ ہی رکھا گیا ہے۔