ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران... لبنان میں جنگ بندی تک امریکہ کے ساتھ پابندیوں اور ایرانی جوہری پروگرام پر بات چیت کا اگلا مرحلہ شروع نہیں کرے گا۔
بقائی نے آج اتوار کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے صفحے پر لکھا کہ سوئٹزرلینڈ میں آج کا اجلاس 18 جون 2026 کو جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت کی یاد داشت کی شقوں پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مختص ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس یاد داشت کی دفعہ 13 کے مطابق حتمی معاہدے پر بات چیت کا آغاز دفعہ 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔ ان دفعات خاص طور پر دفعہ 1 (لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ) پر عمل درآمد کے بغیر حتمی معاہدے پر مذاکرات کے مرحلے میں جانا نا ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات مفاہمت کی یاد داشت کی تمام شقوں پر عمل درآمد پر مرکوز ہوں گے، بشمول ایرانی تیل کی برآمد اور منجمد اثاثوں کی بحالی۔
آج دن کے اوائل میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا تھا کہ ایرانی وفد آج اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے دو دور کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پہلا دور ثالث ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ہو گا اور دوسرا دور امریکہ کی شرکت کے ساتھ چار فریقی اجلاس ہوگا۔
بقائی نے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ آج صبح پاکستانی اور قطری وفود کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں ہوں گی جو اس عمل میں ثالثی کررہے ہیں۔ بعد ازاں آج، ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان قطر اور پاکستان کے نمائندوں کی شرکت کے ساتھ چار فریقی ملاقاتیں ہوں گی۔
دونوں فریقوں کی جانب سے بدھ کو دستخط شدہ یا داشت میں 60 دن کی مدت کے اندر مذاکرات کرنے کی شق موجود ہے تاکہ ایک حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے جو ایرانی جوہری پروگرام اور تہران پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر مرکوز ہو۔
اس سے قبل ایک ایرانی اہل کار نے امریکی نیٹ ورک سی این این کو بتایا کہ لبنان میں تنازع کا خاتمہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کے لیے موجود ایرانی وفد کے ایجنڈے کا سب سے اہم نکتہ ہے۔
اہل کار نے وضاحت کی کہ یہ بات چیت امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت کی یاد داشت میں طے شدہ با ضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں ہے، جس کی وجہ معاہدے میں درج متعدد شقوں پر عمل نہ ہونا ہے۔
اہل کار نے مزید کہا کہ ان شقوں میں سب سے نمایاں معاہدے کی پہلی شق ہے، جس میں لبنان میں جنگ کے خاتمے کا ذکر ہے۔ انھوں نے نشان دہی کی کہ اس شرط پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان با ضابطہ مذاکرات کے مرحلے میں منتقلی رک گئی ہے۔
دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں آج امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شریک ایک سفارت کار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں امن بات چیت کے پہلے دن کے ایجنڈے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع پر بحث کے لیے ایک ہنگامی اجلاس شامل کیا گیا ہے۔
-
اسرائیلی فوجی اہلکار: جنوبی لبنان میں ’سیاسی قیادت سے جنگ بندی کے احکامات موصول ہوئے‘
اسرائیلی فوج کے ایک اہلکار نے ہفتے کے روز بتایا کہ فوج کو ملک کی سیاسی قیادت سے ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کاٹز: خطرات کے پیشِ نظر لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ لبنان میں ...
مشرق وسطی -
سوئٹزرلینڈ : لبنان اور منجمد اثاثوں سے متعلق ایران، امریکہ اور قطر کی ملاقات
ایرانی میڈیا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں تنازع کے خاتمے کے لیے مفاہمت کے فریم ورک کے ...
بين الاقوامى