.

نازیبا سائٹس دیکھنے والے سعودیوں کے اعداد و شمار پراختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیشن (سی آئی ٹی سی) اور ایک ٹیکنالوجی ماہر نے مخرب اخلاق ویب سائٹس دیکھنے والے سعودیوں سے متعلق حال ہی میں جاری کردہ اعداد و شمار کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور ان کی اعتباریت پر شک کا اظہار کیا ہے۔

سی آئی ٹی سی نے سعودیوں کی مخرب اخلاق سائٹس دیکھنے کی عادات سے متعلق شائع ہونے والے مطالعات کے ردعمل میں اپنی اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ایسے کوئی قابل اعتبار اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں جن سے یہ پتا چل سکے کہ سعودی شہری دوسروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ نازیبا مواد پر مبنی ویب سائٹس دیکھتے ہیں۔

سی آئی ٹی سی کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ اور اطلاعات سلطان الملک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمیشن کے پاس ایسے کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں جن سے یہ معلوم ہوسکے کہ کتنے فی صد سعودی مخرب اخلاق ویب سائٹس ملاحظہ کرتے ہیں۔اس ضمن میں بیرونی ادارے جو اعداد و شمار جاری یا شائع کررہے ہیں،ہم ان کی اعتباریت کی جانچ نہیں کرسکتے ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک ماہر ہیثم ابو عائشہ نے بھی اس حوالے سے عالمی اداروں کے اعداد و شمار پر اپنے شک کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایسے اعدادوشمار معتبر اور ثقہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یہ کسی مقامی اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ہوں۔

انھوں نے سعودی عرب کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ''وہ تمام پورن سائٹس کو بلاک کردیں۔پھر جو کوئی بھی ان ویب سائٹس کو دیکھنا چاہے گا تو وہ کسی بیرونی ''آئی پی'' سے ایسا کر سکے گا۔ اس کا یہ مطلب ہوگا کہ ایسی ویب سائٹس کو ملاحظہ کرنے والوں کے بارے میں کسی ملک کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوگا''

ابو عائشہ نے بتایا کہ ''سمارٹ ڈیوائسز پر خاندان اور بچوں کے تحفظ کے نقطہ نظر سے انسٹال کیے گئے پروگرامز بھی کوئی زیادہ محفوظ نہیں ہیں اور انھیں نازیبا سائٹس ملاحظہ کرنے کے لیے بائی پاس کیا جا سکتا ہے''۔

درایں اثناء ایک سماجی کارکن زینا الاحمری نے سعودی شہریوں کے مخرب اخلاق سائٹس دیکھنے سے متعلق اعداد وشمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''عرب ممالک میں سیاسی اتھل پتھل سے لوگوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے اور وہ اب اپنی دل پشوری کے لیے ان سائٹس کا رُخ کر رہی ہے''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''ہمیں اعداد و شمار یا ممالک کی درجہ بندی پر نہیں جانا چاہیے بلکہ ان سیاسی، اقتصادی اور سماجی وجوہ کا پتا چلانا چاہیے، جو لوگوں کے مخرب اخلاق ویب سائٹس کو دیکھنے کا محرک بن رہی ہیں اور لوگ ایسے مواد کو دیکھ کر اپنے جذبات کی تسکین کی کوشش کر رہے ہیں''۔