شام کے سابق مفتی اعظم کو روانگی سے قبل دمشق کے ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام میں سابق حکومت کے مقرر کردہ مفتی اعظم احمد حسون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ کئی ماہ بعد فروری میں حلب شہر میں نظر آئے تھے۔

العربیہ کے ذرائع نے آج جمعرات کے روز بتایا ہے کہ سیکورٹی حکام نے سابق صدر بشار الاسد کے دور کے مشہور مفتی کو دمشق ہوائی اڈے پر اس وقت حراست میں لیا جب وہ ملک سے کوچ کرنے والے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کل جمعے کے روز نئی الافتاء کونسل اور ملک میں نئے مفتی اعظم کا تقرر متوقع ہے۔

سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر بعض تصاویر وائرل ہو گئی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حسون کی گرفتار کے مناظر کی تصاویر ہیں۔

حسون پہلی مرتبہ 17 فروری کو حلب میں نظر آئے تھے جب بعض مشتعل افراد نے حسون کے گھر دھاوا بول دیا تھا۔ مظاہرین سابق مفتی اعظم کے احتساب کا مطالبہ کر رہے تھے۔

البتہ حسون کا کہنا ہے کہ وہ بشار الاسد کے دور میں "3 بار" گرفتار ہو چکے ہیں۔

احمد بدر الدین حسون کی پیدائش 1949 میں حلب میں ہوئی۔ انھوں نے 2005 سے 2021 تک ملک کے مفتی اعظم کا منصب سنبھالا۔

حسون عربی ادب میں اجازت رکھتے ہیں۔ انھوں نے جامعہ الازہر سے فقہ شافعی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ حسون کئی مرتبہ بشار الاسد کے شانہ بشانہ اور ان کی پالیسی کا دفاع کرتے نظر آئے۔

حسون نے خانہ جنگی کے دوران شام میں حلب اور دیگر شامی علاقوں میں بشار حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی حمایت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں