قطری فرم پر فیفا کے عہدے دار کو 20 لاکھ ڈالرز دینے کا الزام

قطر کی 2022ء میں فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی ایک مرتبہ پھر الزامات کی زد میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

قطر کی ایک فرم نے 2022ء میں فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کا حق حاصل کرنے کے بعد عالمی فٹ بال فیڈریشن (فیفا) کے ایک سینیر عہدے دار کو قریباً بیس لاکھ ڈالرز کی رقم دی تھی۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیفا کے سابق نائب صدر جیک وارنر اور ان کے بیٹوں کو قطری فٹ بال کے سابق عہدے دار محمد بن ہمام کی ملکیتی کمپنی نے ساڑھے انیس لاکھ روپے کی رقم ادا کی تھی اور چار لاکھ ڈالرز ان کے ایک ملازم کو ادا کیے گئے تھے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اب امریکا کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی وارنر پر رقوم وصول کرنے کے ان مبینہ الزامات کی تحقیقات کررہا ہے۔محمد بن ہمام کی ملکیتی کمپنی کیمکو نے مبینہ طور پر 2011ء میں مسٹر وارنر کو بارہ لاکھ ڈالرز ادا کیے تھے۔اس کے علاوہ ان کے دو بیٹوں اور ایک ملازم کو مزید دس لاکھ ڈالرز کی رقم ادا کی گئی تھی۔

دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ مسٹر وارنر کی کمپنیوں میں سے ایک جمد نے کیمکو کو مبینہ طور پر 2005ء سے 2010ء کے درمیان کام کرنے کے بدلے میں بارہ لاکھ ڈالرز ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔

اب اس انکشاف کے بعد اس شُبے کو تقویت ملے گی کہ فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے بعض ارکان دسمبر 2010ء میں فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کے لیے رائے شماری کے وقت غیر جانبدار نہیں تھے۔تاہم وارنر سے جب برطانوی اخبار نے اس معاملے پر گفتگو کی کوشش کی تو انھوں نے کچھ کہنے سے انکار کردیا۔

وارنر چودہ سال تک فیفا کے نائب صدر رہے تھے اور وہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ان بائیس ارکان میں سے ایک تھے جنھوں نے قطر کو 2022ء میں ہونے والے فٹ بال کے عالمی کپ کی میزبانی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ دوسری جانب قطر اور فیفا نے فٹ بال کی میزبانی دینے کے عمل میں کسی قسم کی غلط روی اور بدعنوانی سے انکار کیا ہے لیکن مبصرین نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم معاملے پر تحقیقات کرے اور حقائق کو منظرعام پر لائے۔

یادرہے کہ محمد بن ہمام فیفا کی صدارت کے بھی امیدوار تھے لیکن 2011ء میں ان پر فیڈریشن کے کیربین خطے سے تعلق رکھنے والے ارکان کو رشوت دینے کا الزام لگا تھا جس کے بعد وہ امیدواری سے دستبردار ہوگئے تھے۔ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کی تحقیقات کی گئی تھی اور وہ دسمبر 2012ء میں فیفا کا اخلاقی ضابطہ توڑنے کے مرتکب پائے گئے تھے اور فیڈریشن نے ان پر تاحیات پابندی عاید کردی تھی۔اس کے بعد وہ اپنے تمام عہدوں سے مستعفی ہوگئے تھے۔

محمد بن ہمام فیفا کی صدارت کے لیے موجودہ صدر سیپ بلیٹر کے مقابلے میں امیدوار تھے اور ان پر یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے پورٹ آف اسپین میں ایک اجلاس کے دوران کیربین خطے سے تعلق رکھنے والے فیفا کے ارکان کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے بھورے لفافوں میں چالیس ہزار ڈالرز فی کس دیے تھے۔یہ الزامات منظرعام پر آنے کے بعد وہ فیفا کی صدارت کی امیدواری سے دستبردار ہوگئے تھے۔

قبل ازیں محمد بن ہمام پر یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے قطر کو 2022ء میں ہونے والے عالمی کپ فٹ بال ٹورنا منٹ کی میزبانی دلانے کے لیے فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے افریقہ سے تعلق رکھنے والے تین ارکان عیسیٰ حیاتو، ژاک انوما اور آموس آدمو کی حمایت حاصل کرنے کے لیے انھیں پندرہ لاکھ ڈالرز کی رقم ادا کی تھی۔

قطر پر لگائے گئے الزامات فیفا کی 107سالہ تاریخ میں بدترین کرپشن اسکینڈل کا حصہ تھے۔فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی نے مذکورہ تینوں ارکان کے علاوہ سات اور ارکان کے خلاف بدعنوانیوں اورنامناسب رویے کے الزام میں تحقیقات کی تھی اور اس نے ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کے چئیرمین محمدبن ہمام کو کرپشن کے الزام میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

یادرہے کہ فیفا کی ایگزیکٹوکمیٹی کے بائیس ارکان نے سوئٹزرلینڈ کے شہرزیورخ میں منعقدہ اجلاس میں روس کو 2018ء اور قطر کو 2022ء کے عالمی کپ کی میزبانی کے لیے منتخب کیا تھا۔ یہ فیصلہ خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ فیفا نے ایک ہی وقت میں فٹ بال کے دوعالمی کپ مقابلوں کے لیے میزبان ممالک کافیصلہ کیا تھا۔

قطرعرب دنیا اورمشرق وسطیٰ کا پہلا ملک ہے جہاں فٹ بال کا ورلڈکپ منعقد ہوگا۔ فیفا کی انتظامی کمیٹی نے ایک زبردست لابی مہم کے بعد قطر کے حق میں ووٹ دیا تھا اور قطرموسم کی شدت اور فیفا کے بعض ارکان کے کچھ سنجیدہ تحفظات کے باوجود فٹ بال کےعالمی کپ کی میزبانی حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

برطانوی میڈیا نے اپنی اشاعتوں اور نشریوں میں فیفا کی انتظامی کمیٹی کے متعدد ارکان کےخلاف کرپشن کےالزامات لگائے تھےاورچوبیس رکنی کمیٹی کے دو ارکان کوکرپشن کےالزامات پرمعطل کردیا گیا تھا اوران کی تعداد زیورخ اجلاس کے وقت بائیس رہ گئی تھی۔

فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی اور اس کے لیے تیاریوں کے بعد سے قطر مختلف الزامات کی زد میں ہے۔ اس پر نیپال سے تعلق رکھنے والے مزدوروں سے جبری مشقت لینے کے بھِی الزامات عاید کیے گئے ہیں اور گذشتہ موسم گرما میں ان میں سے بہت سے مزدور شدید درجہ حرارت میں کام کے دوران دم توڑ گئے تھے جبکہ انھیں کام کے مقابلے میں معاوضہ بھی کم دیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں