قرضہ واپسی میں ناکامی، مصری خاتون کو 34 سال قید
خاتون نے قرضہ بیٹوں کا جہیز بنانے کے لئے لیا تھا
مصری جیلوں میں ان دنوں سیاسی قیدیوں کی بڑی تعداد مختلف مقدمات کا سامنا کر رہی ہے وہیں ان زندانوں میں متعدد ایسے قیدی بھی ہیں جو حکومت اور عام لوگوں سے لیے گئے معمولی قرض لوٹا نہ سکنے کی پاداش میں سال ہا سال سے قید کاٹ رہے ہیں۔
العربیہ نیوز چینل کے برادر ٹیلی ویژن "الحدث" کے پروگرام "شاہراہ المصری" کے دو سلسلہ وار پروگراموں میں مقروض قیدیوں اور ان کے مسائل تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ پروگرام کے لیے ملک کے مختلف شہروں اور جیلوں سے مقروض قیدیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ اس دوران کچھ ایسے دل دہلا دینے والے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ مقروض قیدیوں میں بعض نے اپنی گھریلو ضروریات کے لیے قرض لیا لیکن واپس نہیں لوٹا سکے۔ بعض اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے قرض لے بیٹھے تھے جو اُنہیں لے ڈوبا اور کچھ ماں باپ کو اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے اور ان کے جہیز کا سامان خرید کرنے کے لیے قرض لے لینے کی پاداش میں جیلوں کی ہوا کھانا پڑی ہے۔ بعض کو قرض کی رقم سے بیماریوں کا علاج مہنگا پڑا۔
ایسی ہی ایک خاتون الحاجہ رتیبہ جس کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی پر ان کے جہیز کے لیے 50 ہزار مصری پاؤنڈ قرض لیا۔ یہ رقم امریکی کرنسی میں 07 ہزار ڈالر سے زیادہ نہیں۔ لیکن وہ رقم واپس نہیں کر سکی جس کے نتیجے میں اسے کم سے کم 34 سال کی قید کا سامنا ہے۔ وہ پچھلے گیارہ سال سے جیل میں ہے اور سنہ 1937ء تک قید رہے گے۔صرف یہی نہیں بلکہ الحاجہ رتیبہ نے جن دو بیٹیوں کے جہیز کے لیے رقم قرض لی تھی وہ بھی نو سال سے اس کے ساتھ پابند سلاسل ہیں کیونکہ انہوں نے رقم کے حصول کے کاغذات پر خود کو ضامن قرار دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مصری جیلوں میں قید مجموعی قیدیوں میں سے 20 سے 25 فی صد افراد قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث قید ہیں۔ پروگرام "شاہراہ المصری" نے مصر کے قیدیوں سے متعلق قانون تعزیرات کا بھی مطالعہ کیا۔ قانون کی رو سے قرض واپس نہ کرنے والے افراد کو مساوی نوعیت کی سزاؤں کا سامنا ہوتا ہے۔
چاہے ان کے قرض کی مالیت ایک ہزار پاؤنڈ ہے یا ایک ملین پاؤنڈ ہو۔ رقم کی کمی بیشی سزاء پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ حکومت کے علاوہ ایک دوسرے سے قرض کا لین دین کرتے ہیں، یا بازاروں سے قسطوں پر اشیاء حاصل کرتے ہیں۔ انہیں ہر ماہ قسط ادا کرنا ہوتی ہے۔ جب قرض کی واپسی مشکل ہوجاتی ہے تو قرض خواہ کو جیل جانا پڑتا ہے جہاں اسے ہر قسط کے بدلے میں الگ سے قید کاٹنا پڑتی ہے۔ اسی طرح حکومت سے مختلف چیکوں کی شکل میں حاصل کردہ رقوم پر قرض خواہ کو ہر چیک کے بدلے میں قید کی سزا مقرر ہے۔