.

سعودی عرب: طلاق دینے سے انکار پر خاوند عدالت میں ہو گا

خاوند کے ساتھ جانے سے انکار پر بیوی مالی حقوق سے محروم ہوجائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں عدالتوں میں بیویوں کی جانب سے خلع کے لیے دائر مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے ایک نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے جس کے تحت ناراض بیویوں کو طلاق دینے سے انکار کرنے والے خاوندوں کو زبردستی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یہ نیا عدالتی ضابطہ کار آیندہ ہفتے سے سعودی مملکت میں نافذ العمل ہوگا۔ ذرائع کے مطابق جو خاوند حضرات بیویوں کو طلاق دینے،نان ونفقہ ادا کرنے یا بچوں کو ماں کے حوالے کرنے سے انکار کریں گے تو انھیں زبردستی عدالتوں میں لایا جائے گا۔ وزارت عدل نے وزارت داخلہ کو اس نئے نظام پر عمل درآمد کی ذمے داری سونپی ہے۔

ناراض بیویاں

سعودی روزنامے مکہ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ بارہ ماہ کے دوران خاوندوں کی جانب سے عدالتوں میں 1802 مقدمات دائر کیے گئے ہیں جن میں انھوں نے اپنی ناراض بیویوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ آئیں۔ ایسے سب سے زیادہ کیس دارالحکومت ریاض میں دائر کیے گئے ہیں اور ان کی تعداد 668 ہے جبکہ قطیف میں سب سے کم 16 کیس دائر کیے گئے ہیں۔

ایسے کیسوں میں خاوند حضرات بالعموم یہ دعوے کرتے ہیں کہ ان کی بیویاں ان کی مزاحمت کرتی ہیں اور انھیں گھروں ہی میں رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر ایسے کسی کیس میں مزاحمت ثابت ہوجائے تو عدالت بالعموم بیوی کو اپنے خاوند کے گھر میں لوٹنے کا حکم دے دیتی ہے۔

لیکن اگر وہ پھر بھی خاوند کے ساتھ جانے سے انکار کردیتی ہے تو اس کو ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ عدالتی نظام کی دفعہ 196 کے تحت اس کو تمام حقوق سے محروم کردیا جائے گا۔

ایک سعودی وکیل عمار جستانیہ کا کہنا ہے کہ نئے ضابطے کے تحت ایسے کیسوں میں بیویاں اپنے مالی حقوق سے دستبردار ہوجائیں گی مگر انھیں ان کے خاوندوں کے ساتھ جانے پر مجبور نہیں کیا جا سکے گا۔