’ریاست مخالف ٹویٹس‘، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17، 17 برس قید اور جرمانے کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے متنازع سوشل پوسٹ (ٹویٹ) میں ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف سزا کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ عدالت نے مختلف دفعات میں مجموعی طور پر دونوں ملزمان کو 17، 17 برس قید کی سزا سنائی۔

یہ وکیل جوڑا جمعے کو ایک علیحدہ کیس میں گرفتاری کے بعد راول پنڈی کی اڈیالہ جیل میں عدالتی ریمانڈ پر تھا۔

ہفتے کو کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایمان اور ہادی کو مبینہ طور پر انٹرنیٹ مسائل کے باعث بذریعہ ویڈیو لنک پیش نہیں کیا جا سکا جس پر عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کی استدعا منظور کرتے ہوئے 20 منٹ کا وقفہ کر دیا۔

سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے کہا کیس میں مجموعی طور پر پانچ گواہان پیش کیے گئے اور عدالت میں 30 صفحات سے زائد پر مشتمل چالان جمع کرایا گیا۔

یاد رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی نے ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور چند دیگر افراد کے خلاف مقدمہ 22 اگست کو درج کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا یہ عمل ریاست مخالف ہے۔

مقدمے کے مطابق ملزمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی ٹویٹ میں ’پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے‘ اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد کی تشہیر کے الزامات تھے۔ اس مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان سوشل میڈیا پر منصوبہ بندی کے تحت ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ختم کرنے اور ملک میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

چالان کے ساتھ ایمان اور ہادی کی مختلف ٹوئٹس کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ایمان کی مبینہ ریاست مخالف تقریر بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی۔

عدالت نے کچھ دیر بعد ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد وڈیو لنک پر آتے ہی ایمان نے پوچھا ’کیا میڈیا عدالت میں موجود ہے؟ ہم پر تشدد کیا جا رہا ہے اور ہمیں پانی اور کھانا نہیں دیا جا رہا۔‘

انہوں نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ’آپ اپنی نوکری کر رہے ہیں، آپ کی وجہ سے سارا کچھ ہو رہا ہے، ہم عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔‘

جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا ’یعنی آپ کاروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں۔‘

اس دوران ایمان اور ہادی کے وکیل سماعت مکمل ہونے سے قبل ہی اٹھ کر چلے گئے۔

بعد ازاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی جانب سے 22 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی کو پیکا ایکٹ کے مختلف سیکشنز کے تحت سزائیں سنائی گئیں۔

سیشن کورٹ نے سیکشن 10 کے تحت وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری اور ہادی علی کو دس، دس سال قید اور تین، تین کروڑ روپے جرمانے کا حکم دیا۔

عدالت نے پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت دونوں ملزمان کو پانچ، پانچ سال قید اور پچاس، پچاس لاکھ روپے جرمانے کی سزا اور پیکا ایکٹ کے سیکشن 26-A کے تحت دونوں ملزمان کو دو، دو سال قید اور دس، دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔مجموعی طور پر عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی، تاہم پیکا ایکٹ کے سیکشن 11 کے تحت دونوں ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق مجموعی طور پر دونوں مجرمان پر تین کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا، جب کہ فیصلہ سناتے وقت اسپیشل پراسیکیوٹرز بیرسٹر فہد اور رانا عثمان کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔ تاہم ملزمان کی جانب سے کوئی بھی وکیل فیصلے کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھا۔

عدالتی فیصلے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان کی جانب سے کیے گئے متنازع ٹویٹ قانون کے دائرے میں سنگین جرم کے زمرے میں آتے ہیں، جس پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ فیصلے کے بعد عدالت کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ایس ایس پی آپریشن، ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ جج نے حکم دیا تھا کہ ملزمان کو 10 بجے عدالت میں پیش کیا جائے، آج ہائی کورٹ کے آڈر کی روشنی میں جرح کا آخری دن ہے۔

یاد رہے کہ جمعے کے روز اسلام آباد میں پولیس نے وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں افراد ہائی کورٹ بار کی وین میں سفر کر رہے تھے۔ پولیس نے سرینہ چوک انڈر پاس کے قریب گاڑی رکوا کر گرفتار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں