وہ دن جب امریکہ میں سب سے زیادہ سزائے موت دی گئی
ڈاکوٹا قبیلے نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے واشنگٹن کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور سفید فام آبادکاروں کی بستیوں پر حملہ کر دیا
1861 کے دوران ریاست ہائے متحدہ امریکا نے خانہ جنگی کے آغاز کی فضا میں زندگی گزاری، جو ابراہام لنکن کی صدارت میں کامیابی، جنوبی ریاستوں کی یونین سے علیحدگی کے اعلان اور 12 اپریل 1861 کو کنفیڈریٹ افواج کی جانب سے فورٹ سمٹر (Fort Sumter) پر حملے کے بعد بھڑک اٹھی۔
اسی دوران خانہ جنگی کو امریکی تاریخ کا سب سے خونریز تصادم قرار دیا گیا، کیونکہ اس کے نتیجے میں چار سالہ جنگ کے دوران 6 لاکھ سے زیادہ امریکی ہلاک ہوئے، جو بالآخر یونین کی فتح پر ختم ہوئی۔
خانہ جنگی کے ہنگاموں کے بیچ امریکا کو ایک اور مسلح تنازع کا سامنا کرنا پڑا جو اسے منیسوٹا (Minnesota) میں ڈاکوٹا (Dakota) قبیلے کے خلاف آمنے سامنے لے آیا۔ اس عرصے میں ڈاکوٹا قبیلے نے اسلحہ اٹھایا کیونکہ ان کے مطابق سفید فام آبادکاروں کی سخت پالیسیوں اور امریکی حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں سے انحراف نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔
اختلافات اور جنگ کا آغاز
انیسویں صدی کے آغاز سے ہی ریاست ہائے متحدہ امریکا نے قبيلہ ڈاکوٹا کے ساتھ متعدد معاہدے کیے جن کی بدولت وہ منیسوٹا میں وسیع علاقوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہوئے تاکہ وہاں سفید فام آبادکاروں کی بستیاں قائم کی جا سکیں۔
بتدریج اس پالیسی نے ڈاکوٹا قبیلے اور امریکی حکام کے درمیان اختلافات اور دشمنی میں اضافہ کیا، جبکہ علاقے میں سفید فام آبادکاروں اور مقامی باشندوں کے درمیان کشیدگی بھی بڑھتی گئی۔
1850 سے 1860 کے درمیان ڈاکوٹا قبیلے نے اپنی زیادہ تر زمینیں امریکا کو معاہدوں کے تحت دے دیں، جن میں واشنگٹن نے ڈاکوٹا قبیلے کے افراد کو بڑی مالی رقوم اور وافر مقدار میں خوراک فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ قبیلہ ہر طرف سے سفید فام بستیوں میں گھِر گیا اور انہیں مجبوراً ایک تنگ پٹی پر قائم محفوظ علاقوں میں رہنا پڑا، جو دریائے منیسوٹا کے کنارے پھیلے ہوئے تھے اور خوراک کی شدید کمی کا شکار تھے۔
امریکی خانہ جنگی کے دوران ڈاکوٹا قبیلے اور امریکی حکام کے درمیان تنازعات شدت اختیار کر گئے کیونکہ ان کی مالی ادائیگیاں تاخیر کا شکار تھیں اور خوراک بھی کم ہوتی جا رہی تھی۔
سفید فام تاجروں نے بھی ڈاکوٹا افراد کو خوراک دینے سے انکار کر دیا اور اس کے بدلے رقم کا مطالبہ کرنے لگے۔ نتیجتاً ڈاکوٹا قبیلے کے دیہاتوں میں قحط پھوٹ پڑا۔
اگست 1862 کے وسط میں ڈاکوٹا قبیلے کے دو گروہوں اور سفید فام آبادکاروں کے درمیان مسلح جھڑپ شروع ہو گئی۔ اس کے بعد قبیلے کے ایک رہنما لیٹل کرو (Little Crow) جس کا مطلب ہے "چھوٹا کوّا" نے امریکا کے حکام کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔
38 سزائے موت
امریکیوں کے خانہ جنگی میں الجھے ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکوٹا قبیلے کے افراد نے اپنے قریب موجود سفید فام آبادکاروں کے شہروں اور دیہات پر حملے شروع کر دیے۔ ان جھڑپوں کے دوران 350 سے زیادہ سفید فام آبادکار مارے گئے جبکہ تقریباً 250 افراد جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی، انھیں اغوا کر لیا گیا۔ بعد ازاں ستمبر 1862 میں امریکی جنرل ہنری ہیسٹنگز سبلی (Henry Hastings Sibley) کے ساتھ مذاکرات کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ واشنگٹن نے ایک فوجی دستہ تشکیل دیا ،جس میں امریکی سپاہیوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مقامی رضاکار شامل تھے، جنہوں نے مسلح ملیشیاؤں کا کردار ادا کرتے ہوئے ڈاکوٹا قبیلے کی بغاوت کا مقابلہ کیا۔ چند ہفتوں کی لڑائی کے بعد امریکی حکام امن بحال کرنے اور بغاوت ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
بغاوت کے خاتمے کے بعد کے دنوں میں ایک امریکی فوجی عدالت نے تیز رفتار مقدمات کے دوران،جو بعض اوقات صرف چند منٹوں پر مشتمل ہوتے تھے، ڈاکوٹا قبیلے کے 307 افراد کو سزائے موت سنائی۔
امریکی صدر ابراہام لنکن نے ان فیصلوں پر نظرِ ثانی کی اور صرف 38 افراد کی پھانسی کی منظوری دی۔26 دسمبر 1862 کو منیسوٹا کے شہر مانکاٹو (Mankato) میں امریکی افواج نے عجلت میں ایک پھانسی کا ٹکانا تیار کیا اور ایک عوامی مقام پر پھانسی کے پھندے نصب کیے۔ قبیلے میں پائی جانے والی شدید بے چینی کے باعث دو ہزارسے زیادہ فوجیوں کو نگرانی اور سیکیورٹی کے لیے وہاں تعینات کیا گیا۔
اسی دن امریکی حکام نے ڈاکوٹا قبیلے کے 38 افراد کو پھانسی دے دی، جسے دیکھ کر حاضرین ششدر رہ گئےاور بعد میں ان کی لاشوں کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا۔