.

یمنی القاعدہ میں شمولیت کی کوشش، دو سعودی خواتین گرفتار

4 سے 14 سال کی عمر کے 6 بچوں کو الجازان سے یمن اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکام نے ملک کی جنوبی سرحد سے دوخواتین کو چھے بچوں کو یمن میں القاعدہ میں شمولیت کے لیے اسمگل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ان میں سے چار بچے ان دونوں خواتین کی اپنی اولاد ہیں۔

سعودی حکام نے ان خواتین اور بچوں کے ہمراہ جنوب مغربی علاقے الجازان سے یمن میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو یمنی اسمگلروں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

ان دونوں خواتین نے مبینہ طور پر وسطی علاقے القسیم سے زاد راہ کے لیے رقوم ،سونا اور چاندی اکٹھی کی تھی اور پھر چھے بچوں کو اپنے ساتھ لے کر یمن کی سرحد کی جانب چل دی تھیں۔الوطن اخبار نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ تمام چھے بچوں کا آپس میں باہمی تعلق ہے اور ان کی عمریں چار سے چودہ سال کے درمیان ہیں۔

ان میں سے ایک بچے کے چچا ابو صالح نے ٹویٹر پر گذشتہ سوموار کو لکھا تھا:''اس کو یہ جان کر شدید دھچکا لگا کہ اس کے ایک بھتیجے کو دو خواتین دوسرے بچوں کے ہمراہ یمن اسمگل کرنے کی کوشش کررہی تھیں تا کہ وہ وہاں القاعدہ کی صفوں میں شامل ہوسکیں''۔

الریاض سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی محمد الزیاد نے العربیہ کو بتایا ہے:''یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ القاعدہ نے سعودی خواتین کو بھرتی کرنے کی کوشش کی ہے۔گذشتہ کئی سال سے القاعدہ خواتین کے جذبات کا استحصال کرکے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔اس نے سعودی عرب ایسے ممالک میں فائدہ اٹھایا ہے اور خواتین اور بچوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرکے ریاستوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا ہے یا ان کے بدلے میں تنظیم کو چلانے کے لیے رقوم اکٹھی کی ہیں''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''(القاعدہ والے) خواتین کو اشیاء کی حمل ونقل کے لیے بھی یمن یا شام ایسے ممالک میں استعمال کرتے ہیں۔ان ممالک میں خواتین القاعدہ یا اس سے وابستہ تنظیموں النصرۃ محاذ یا دولت اسلامی عراق وشام (داعش) میں شمولیت اختیار کر لیتی ہیں۔

انھوں نے گرفتار کی گئی دو سعودی خواتین کے حوالے سے بتایا کہ ان میں سے ایک کا خاوند شام میں داعش کا جنگجو ہے اور دوسری کا خاوند دہشت گردی کے الزامات کے سلسلے میں جیل میں بند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''خواتین القاعدہ کی حمایت کے لیے متحرک ہیں۔اس کے علاوہ وہ لوگوں میں تنظیم سے متعلق ہمدردی پیدا کرنے کے لیے بھی جذبات کو انگیخت دینے کا کام کرتی رہی ہیں''۔

حکام کے مطابق وزارت داخلہ نے ان گرفتار کی گئی خواتین اور بچوں کے پاس ان کے عزیزو اقارب ،علماء اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کو ایک نجی طیارے کے ذریعے الجازان بھیجا ہے تا کہ وہ انھیں سمجھا بجھا کر انتہا پسندانہ نظریات سے دستبردار ہونے پر آمادہ کرسکیں۔