''میکسیکو کی جرسی'' سے منسلک بطخ ورلڈ کپ میں دنیا بھر کی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

میکسیکو کی قومی ٹیم نے 2026 کے ورلڈ کپ میں شاندار آغاز کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو 0-2 سے شکست دے دی، تاہم اس میچ کے بعد سب سے زیادہ توجہ کھلاڑیوں یا کوچ کو نہیں ملی۔بلکہ ایک بطخ ''میرلِن'' سوشل میڈیا پر چھا گئی، جو اپنی منفرد انداز میں میکسیکو کے شائقین کے جشن میں شامل ہو کر وائرل ہو گئی۔

میزبان ٹیم کی فتح کے بعد سینکڑوں شائقین ''آزادی کے مجسمے'' کے مقام پر جمع ہوئے اور کامیابی کا جشن منایا۔ اسی دوران ہجوم میں ایک چھوٹی بطخ بھی نظر آئی جو میکسیکو کی قومی جرسی اور لمبے موزے پہنے ہوئی تھی۔

شائقین نے حیرت اور دلچسپی کے ساتھ اس منظر کو اپنے موبائل فونز میں محفوظ کیا اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیں، جس کے بعد یہ بطخ فوری طور پر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بن گئی۔

پانی بیچنے والی بطخ

بطخ ''میرلِن'' کی شہرت اس وقت مزید بڑھ گئی جب وہ جشن کے دوران پانی فروخت کرتی نظر آئی، جس نے اسے سوشل میڈیا پر سینکڑوں پوسٹس کا مرکز بنا دیا۔

ہزاروں صارفین نے کہا کہ اس پرندے نے خود میچ کی اہمیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ میرلن کوئی مصنوعی ذہانت سے بنی ہوئی کردار نہیں اور نہ ہی کوئی اشتہاری مہم کا حصہ ہے، بلکہ یہ ایک حقیقی بطخ ہے جو ایک خاندانی کاروباری منصوبے کا حصہ ہے۔ اس خاندان کی دوسری بطخیں بھی پہلے اسی نوعیت کی سرگرمیوں کی وجہ سے شہرت حاصل کر چکی ہیں۔

میرلن کی کہانی

تاہم اس بطخ کے خاندان کی کہانی کا ایک تکلیف دہ پہلو بھی ہے۔ اس خاندان کا معروف رکن ''وافل'' کچھ عرصہ قبل مبینہ طور پر زہر دیے جانے کے باعث ہلاک ہو گیا تھا، جس پر ان کے مداحوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔

آج ''میرلن'' نے اس خلا کو پُر کیا ہے۔ مالک نے میڈیا اور مختلف مؤثر شخصیات سے گفتگو میں واضح کیا ہے کہ یہ بطخ نہ تو مصنوعی ذہانت کی پیداوار ہے اور نہ ہی کوئی تشہیری مہم، بلکہ ایک حقیقی خاندانی منصوبے کا حصہ ہے۔

بطخ کو خریدنے کی متعدد پرکشش پیشکشیں بھی سامنے آئیں، تاہم اس کی مالک نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میرلن خاندان کا حصہ ہے اور اسے فروخت نہیں کیا جائے گا۔

دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ میرلن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی اسپورٹس ایونٹس کے ستارے ہمیشہ میدان کے کھلاڑی ہی نہیں ہوتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں