سعودی ڈاکٹروں کو نرس کے ساتھ خواتین کے معائنے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی وزارت صحت نے سرکاری اسپتالوں اور مراکز صحت میں مریضہ خواتین کے طبی معائنے کے لیے نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت مرد ڈاکٹر حضرات کسی خاتون نرس کی موجودگی ہی میں خواتین کا معائنہ کرسکیں گے۔

وزارت صحت نے اس ضمن میں مریضہ خواتین اور ان کے لواحقین کی جانب سے موصول ہونے والی بہت سی شکایات کے بعد ایک نیا سرکلر جاری کردیا ہے۔ان میں مرد ڈاکٹروں کے خواتین کے طبی معائنے کے وقت ناروا رویے کی شکایت کی گئی تھی۔

حال ہی میں سعودی مملکت کے جنوب میں ایک اسپتال میں خاتون اور اس کے خاوند کے درمیان مرد ڈاکٹر کو دکھانے کے معاملے پر ناخوش گوار واقعہ پیش آیا تھا۔اس خاتون نے اپنے معدے میں درد کی شکایت کی تھی۔اس پر جب اس کو اسپتال لے جایا گیا اور وہاں ایک مرد ڈاکٹر نے اس کے طبی معائنے کی کوشش کی تو ان دونوں میاں بیوی میں تُوتکار ہوگئی تھی۔

اس شخص نے اس پر اپنی بیوی کو فوری طور پر اسپتال سے نکل جانے کے لیے کہا۔طبی عملہ اس کو روکنے میں ناکام رہا تھا اور بالآخر خاتون کسی علاج کے بغیر ہی اسپتال سے واپس چلی گئی تھی۔

نسوانی امراض کے ماہر ایک سعودی ڈاکٹر ہاشم عرب کا کہنا ہے کہ میڈیکل کے طلبہ کو ان کی تعلیم کے حصے کے طور پر خواتین کے کمروں میں طبی معائنے کے لیے جانے کی اجازت ہے لیکن دوسرے کنسلٹینٹس اور ڈاکٹروں کو خواتین کے طبی معائنے کے لیے ان کے کمروں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔البتہ وہ ہنگامی صورت حال میں مریضہ خواتین کی رضا مندی سے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی نظامت صحت کے ترجمان خالد العیثمی کا کہناہے کہ وزارت نے مریضہ خواتین کے طبی معائنے کے لیے واضح ہدایات جاری کررکھی ہیں۔یہ ہدایات تمام اسپتالوں اور طبی مراکز کو بھیجی جاچکی ہیں۔ان کے تحت مرد ڈاکٹر حضرات ایک خاتون نرس کی عدم موجودگی میں مریضہ کا معائنہ نہیں کرسکتے۔مرد طبی عملے کو بھی مریضہ خواتین کے کمروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے اور اگر وہ کسی وجہ سے وہاں جانا چاہتے ہیں تو انھیں اس کے لیے ان سے اجازت لینا ہوگی اور کمرے کے اندر جانے کا واضح سبب بھی بیان کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں