.

ایرانی میڈیا:حجاب مخالف خاتون کی لندن میں عصمت ریزی؟

صحافیہ نے ایران کے سرکاری ٹی وی کی من گھڑت رپورٹ کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سخت گیر سرکاری میڈیا کو لندن میں مقیم حجاب مخالف ایک خاتون کے خلاف استعمال کررہے ہیں اور انھوں نے اس پر یہ الزام عاید کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے کہ حال ہی میں اس کی عصمت ریزی کی گئی ہے۔

مسیح علی نجاد نامی اس صحافیہ نے فیس بُک پر اپنا ایک صفحہ بنا رکھا ہے اور وہ اس پرایرانی خواتین کی سرپوش کے بغیر تصاویر پوسٹ کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ خاتون نشے کی حالت میں نیم عریاں ہوکر گھر سے باہر آگئی تھی اور لندن انڈر گراؤنڈ (زیرزمین سب وے) میں تین افراد نے اس کے بیٹے کے سامنے سے اس کی آبروریزی کی تھی۔

مس علی نجاد نے اس رپورٹ کو جھوٹ قرار دے کر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ''جن افراد نے یہ کہانی گھڑی ہے ،وہ بہت ہی خطرناک ہیں۔وہ اپنے ذہن کی اختراع عصمت ریزی کے منظر کو بڑی آسانی سے خبر میں تبدیل کرسکتے ہیں۔انھوں نے میرے بیٹے پر بھی ترس نہیں کھایا ہے اور اس کو اپنے من گھڑت وقوعہ کا گواہ بنا دیا ہے''۔

دریں اثناء علی نجاد نے لندن کے اسی سب وے پر گاتے ہوئے اپنی ایک ویڈیو بنائی ہے اور اس کو اپنے فیس بُک صفحے پر پوسٹ کردیا ہے۔ایران کی نم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس اور بلاگرز نے علی نجاد کی اس حجاب مخالف مہم کی شدید مخالفت کی ہے اور ان پر غیرملکی سراغرساں ادارے کے لیے کام کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

وہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے خلاف ملکی عدلیہ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹر کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کریں گی جس نے ان کے بہ قول انھیں سوشل میڈیا پر فاحشہ قراردیا تھا۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بُک پر مسیح علی نجاد نے ''میری خفیہ آزادی'' کے نام سے مئی میں مہم شروع کی تھی اور ان کے اس صفحے پر ہزاروں کی تعداد میں بے حجاب ایرانی خواتین نے اپنی تصاویر پوسٹ کردی ہیں۔ اس صفحے کے آغاز کے بعد سے اب تک ساڑھے چار لاکھ افراد لائیک کرچکے ہیں۔