مسجد 'الاجابہ': اوائل مسلمانوں کی مظلومیت کی یادگار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ظہور اسلام کے بعد سر زمین حجاز کے ابدی شہرت اور تقدس پانے والے مقامات میں کچھ جگہیں مسلمانوں کی مظلومیت کی عکاسی کرتے ہوئے زندہ و جاوید ہوئیں، ان کا نام ذہن میں آتے ہی مسلمانوں کی زبوں حالی کے واقعات کا ایک سلسلہ تازہ ہو جاتا ہے۔

شعب ابی طالب کی مسجد 'الاجابہ' بھی انہی تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جو آغاز اسلام میں کفار قریش کے ظلم وستم کا شکار مسلمانوں کی مظلومیت کی چشم دید گواہ ہے۔

کفار قریش نے نبی اکرم صلی علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا معاشی بائیکاٹ کیا تو حضور مٹھی بھر جانثاران اسلام کو ساتھ لیے مکہ معظمہ سے کچھ فاصلے پر شعب ابی طالب کی گھاٹی میں چلے گئے۔ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور ھجرت مدینہ کے درمیان مسلمانوں پر جو سخت ترین ایام گذرے، شعب ابی طالب کی دو سالہ کی کٹھن زندگی تلخ آزمائش سمجھی جاتی تھی۔

العربیہ نیوز چینل کے پروگرام "من الحرمین الشریفین" کی سلسلہ وار رپورٹ میں شعب ابی طالب میں تعمیر کی گئی جامع مسجد 'الاجابہ' کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ھجرت مدینہ کے ساتویں برس اس وادی بے آب و گیاہ میں مسجد تعمیر کی گئی۔ بعد ازاں اسے مسجد 'الاجابہ' کا نام دیا گیا ہے۔ تاریخ اس کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں خاموش ہے۔ فتح مکہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس مسجد میں نماز ادا کی۔ زمانے کی بھول بھلیوں میں کھو جانے کے باوجود اہل مکہ نے اسے اپنے دل ودماغ میں تازہ رکھا۔

مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ مسجد کی تعمیر و توسیع بھی ہوتی رہی۔ مسجد 'الاجابہ' کی جدید خطوط پر حالیہ تعمیر آل سعود حکومت کے دور میں ہوئی۔ چودہ سو سال میں یہ مسجد اپنی ھئیت اور شکل تبدیل کرتی رہی لیکن یہ آج بھی دور اول کے مسلمانوں کی مظلومیت اور بعد کے ادوار کی فاتحانہ شان وشوکت کی کہانی سناتی نظر آ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں