.

امریکی یا برطانوی کا سر قلم کرنا چاہتی ہوں:داعش مجاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی لندن سے تعلق رکھنے والی ایک باپردہ جنگجو خاتون نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ امریکی یا برطانوی دہشت گرد کو اپنے ہاتھ سے موت کے گھاٹ اتارنا چاہتی ہے۔

برطانوی ٹیبلائیڈ ڈیلی مرر کی رپورٹ کے مطابق لندن سے تعلق رکھنے والی اس مجاہدہ کا نام خدیجہ ڈئیر ہے اور وہ ٹویٹر استعمال کرتی ہے۔اس نے ایک ٹویٹ میں لکھا:''میں پہلی برطانوی خاتون بننا چاہتی ہوں جو ایک برطانوی یا امریکی دہشت گرد کو قتل کرے گی''۔ وہ مہاجرہ فی الشام کے نام سے ٹویٹر استعمال کرتی ہے۔

خدیجہ ڈئیر کے بارے میں خیال کیا جاتاہے کہ اس کی عمر بائیس سال ہے اور اس نے داعش کے ہاتھوں امریکی صحافی جیمز فولی کے قتل کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے ایک روز بعد یہ ٹویٹ شائع کیا ہے۔اس کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے فولی کے قتل کی اطلاع دینے والے میڈیا اداروں سے بھی روابط کا پتا چلا ہے۔

ٹویٹر کی صارفین کے لیے پالیسی میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو نسل ،قومیت ،مذہب ،جنس ،صنف ،عمر یا معذوری کی بنا پر تشدد کی دھمکی نہیں دیں گے لیکن اس کے باوجود داعش کی مجاہدہ نے اس کا فورم استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی ہے۔

یہ مجاہدہ 2012ء میں برطانیہ سے خانہ جنگی کا شکار شام میں آئی تھی اور داعش میں شامل ہوگئی تھی۔اس نے حال ہی میں اپنے اکلوتے کم سن بچے کی ایک تصویر کو پوسٹ کیا تھا جس میں اس نے ہتھیار پکڑ رکھا تھا۔

خدیجہ ڈئیر نے سویڈن میں ایک ترک سے شادی کی تھی۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے لڑکپن کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا اور لندن کی ایک مسجد میں بھی جاتی رہی تھی۔