.

عالمی آزادی صحافت دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی: سروے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سروے کے مطابق دنیا بھر میں آزادی صحافت پچھلی دہائی کی بدترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور امریکا، چین سمیت کئی ممالک نے صحافیوں کے خلاف پابندیوں میں اضافہ کردیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'فریڈم ہائوس' کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صحافیوں کو حکومتوں، مسلح گروپوں، جرائم پیشہ افراد اور میڈیا اداروں کے مالکان کی جانب سے کئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس رپورٹ کی پراجیکٹ مینیجر جینیفر ڈنھم کا کہنا تھا "سال 2014ء کے دوران صحافیوں کو تمام اطراف سے شدید دبائو کا سامنا رہا ہے۔"

"حکومتوں نے اہم آراء، شدت پسند گروپوں اور جرائم پیشہ گروہوں کو خاموش کرنے کے لئے استعمال ہونے والے نئے سیکیورٹی یا انسداد دہشت گردی قوانین کا صحافیوں کے خلاف استعمال کیا ہے تاکہ اپنے سیاسی یا تجارتی مقاصد کو پورا کیا جاسکے۔"

ڈنھم کا کہنا تھا "پچھلے سال کے دوران جمہوری ریاستوں میں سب سے زیادہ پیش آنے والے مسائل میں ایک مسئلہ آمرانہ حکومتوں اور مسلح تنظیموں کے پراپیگنڈے کا سامنا تھا۔"

سنہ 2014ء میں 199 ممالک اور ریاستوں میں سے 63 ریاستیں یا 32 فیصد ممالک کو صحافیوں کے لئے آزاد قرار دیا ہے جبکہ 71 ممالک کو جزوی طور پر آزاد اور 65 ممالک کو بالکل بھی آزاد قرار نہیں دیا۔

فریڈم ہائوس کے مطابق دنیا کی صرف 14 فیصد آبادی کو دنیا کا آزاد میڈیا حاصل ہے۔ امریکا کی ریٹنگ کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب فرگوسن اور میزوری کے احتجاج کے دوران صحافیوں کو قید، ہراساں کرنے اور سخت رویہ رکھنے کی شکایات سامنے آئی تھیں۔

اس کے علاوہ دوسرے علاقوں میں ہندراس، پیرو، وینزویلا، میکسیکو اور ایکواڈور میں صحافیوں پر پابندیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا کہ ایشیا-پیسیفک علاقے کے صرف پانچ فیصد لوگوں کو آزاد میڈیا تک رسائی حاصل ہے۔ یورپ کی سب زیادہ ریٹنگ تھی مگر یہ ریٹنگ بھی پچھلے دس سال میں دوسری بار تیزی سے نیچے گری ہے۔

اس رپورٹ روس، شام، الجزائر، نائجیریا اور ایتھوپیا میں صحافیوں کو درپیش شدید خطرات سے آگاہ کیا جبکہ تیونس نے عرب ممالک میں سب سے بہترین ریٹنگ حاصل کی تھی۔

فریڈم ہائوس کے مطابق مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہنے والے صرف دو فیصد لوگوں کو آزادی صحافت حاصل ہے۔