.

اسامہ کا بیٹا القاعدہ کی سربراہی کے لئے کوشاں!

حمزہ بن لادن نے القاعدہ جنگجووں کے نام آڈیو پیغام جاری کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغرب مخالف شدت پسند تنظیم 'القاعدہ' کے مقتول بانی سربراہ اسامہ بن لادن کے جواں سال بیٹے حمزہ بن لادن کے جہادیوں کے نام تازہ آڈیو پیغام سامنے آنے کے بعد انسداد دہشت گردی کے ماہرین یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ حمزہ تنظیم میں اپنے والد کا خلاء پر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مئی 2011ء میں پاکستان کے شہر ابیٹ آباد میں ایک خفیہ ٹھکانے میں امریکی میرینز کے رات کی تاریکی میں کیے گئے آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ان کا بیٹا چوبیس سالہ حمزہ تنظیم میں اہم مقام حاصل کرنے اور جہادیوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہو گیا تھا۔

بن لادن کے صاحبزادے حمزہ کی تازہ صوتی ریکارڈنگ جس میں انہوں نے القاعدہ جنگجوئوں کو کابل، غزہ اور بغداد سے اپنا معرکہ واشنگٹن، پیرس اور تل ابیب منتقل کرنے کی ہدایت کی کے بعد یہ واضح ہو رہا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہا ہے بلکہ والد کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے قیادت کے خلاء کو بھی پُرکرنا چاہتا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس حکام کو حمزہ بن لادن کے بارے میں جتنی کُچھ معلومات حاصل ہوئی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے والد کے زیرِسایہ اچھی خاصی جنگی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ بم سازی میں بھی ماہر ہے۔ اس نے اپنے لڑکپن کےآغاز میں جہادیوں کی صفوں میں شمولیت کا عزم کرکے خود کو اس میدان کے لیے تیار کرنا شروع کردیا تھا۔

امریکی 'سی آئی اے' کے حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ بن لادن نے اپنی وفات سے قبل ہی بیٹے کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کرنا اور اسے تربیتی مراحل سے گذارنا شروع کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حمزہ کم عمری کے باوجود القاعدہ کے جہادیوں میں گہرا اثرو رسوخ رکھتا ہے۔

اگرچہ سنہ 1991ء میں پیدا ہونے والے حمزہ بن لادن کے بارے میں بہت سی معلومات پردہ راز میں ہیں۔ وہ جنگجوئوں کے جُھرمٹ میں پہلی بار سنہ 2005ء میں ایک ویڈیو فوٹیج میں پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں منظرعام پرآیا۔

سنہ 2007ء میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ حمزہ بن لادن پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد القاعدہ جنگجوئوں کے ساتھ مقیم ہے تاہم اس کے بعد اس کے ٹھکانے کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔