.

فرانس: صدر فرانسو اولاند کی مقبولیت میں کمی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں صدر فرانسواولاند اور وزیراعظم مینول والز کی مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

اتوار کو جاری کردہ رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزہ کے نتائج کے مطابق اکتوبر میں 20 فی صد رائے دہندگان نے صدر فرانسواولاند کے حق میں رائے ظاہر کی ہے اور وہ ان کی کارکردگی سے مطمئن نظرآتے ہیں۔ستمبرمیں ان کی مقبولیت کی شرح 23 فی صد تھی۔

جنوری میں صدراولاند کی مقبولیت کی شرح 29 فی صد تھی اور دارالحکومت پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے میگزین شارلی ایبڈو پر حملہ آور اسلامی جنگجوؤں کے خلاف بروقت کارروائی پر ان کی کارکردگی کو سراہا گیا تھا۔

فرانسیسی اخبارلی جرنل دو دیمانچی میں اس سروے کی شائع شدہ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم مینول والز رائے دہندگان میں صدر اولاند کے مقابلے میں زیادہ مقبول نظرآتے ہیں اور ان کے حق میں 36 فی صد نے رائے ظاہر کی ہے۔البتہ ستمبر کے مقابلے میں ان کی مقبولیت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔اس سال کے اوائل میں ان کی مقبولیت کی شرح 53 فی صد تھی۔

فرانسواولاند کی ذاتی مقبولیت میں کمی ،حکمراں جماعت میں داخلی تقسیم اور بائیں بازو کی دوسری جماعتوں کے ساتھ فاصلوں کا سوشلسٹ پارٹی کو دسمبر میں ہونے والے علاقائی انتخابات میں خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے اور اس کے بعد 2017ء میں ہونے والے آیندہ صدارتی انتخابات میں بھی اس کے جیتنے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔

آئیفوپ نے اس سروے کے لیے 1969 افراد سے فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے سے رائے لی تھی۔یہ سروے 9 اور 17 اکتوبر کے درمیان کیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے ایک اور ادارے ای لیب نے نیوز ویب سائٹ انٹلانٹکو کے لیے سروے کیا تھا۔اس کے نتائج میں بتایا گیا تھا کہ حکمراں سوشلسٹ پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں دسمبر میں ہونے والے علاقائی انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہیں گی جبکہ قدامت پسند لیس ری پبلکنز اور ان کے اتحادی اور دائیں بازو کی نیشنل فرنٹ پہلے اور دوسرے نمبر پر رہیں گی۔

واضح رہے کہ فرانسو اولاند کے سنہ 2012ء میں برسراقتدار آنے کے بعد سے سوشلسٹ پارٹی فرانس میں منعقدہ تمام بڑے انتخابات میں شکست سے دوچار ہوچکی ہے۔اس دوران مقامی اور یورپی یونین کے انتخابات منعقد ہوچکے ہیں۔