بیوی یا 'واٹس اپ' میں سے ایک کا انتخاب کر لو!

امارات میں طلاق کے 50% طلاق کے واقعات کا محرک سوشل میڈیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سوشل میڈیا کو عالم انسانیت کو باہم مربوط کرنے کا ایک لا محدود نیٹ ورک قرار دیا جاتا ہے مگر اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار لوگ سماجی رابطے کی لت کچھ ایسے مبتلا ہوئے ہیں کہ اب سوشل میڈیا میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگاڑنے اور طلاق جیسے ناپسندیدہ واقعات کا بھی بڑے پیمانے پر موجب بن رہا ہے۔ کئی دوسرے ملکوں کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی طلاق کے 50 فی صد واقعات کے پیچھے سوشل میڈیا کا کردار بتایا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت میں طلاق کا ایک کیس لایا گیا جس میں ایک خاتون نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ "میرے یا واٹس اپ" میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ یا تو واٹس اپ استعمال کرے یا مجھے اپنی بیوی کے طور پر ساتھ رکھے"۔ شوہر نامدار نے بیوی سے 10 سالہ تعلق توڑ لیا مگر سوشل میڈیا سے تعلق ختم کرنا گوارا نہیں کیا۔

یو اے ای کی حکومت کی جانب سےجاری کردہ سرکاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں طلاق کے پچاس فی صد واقعات میں کسی نہ کسی شکل میں سوشل میڈیا کا کردار ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ایک فیملی ایڈوائرز نے بتایا کہ واٹس اپ کی وجہ سے میاں بیوی میں طلاق کا واقعہ نیا نہیں۔ اس نوعیت کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ واٹس اپ والا کیس اس وقت سامنے آیا جب پہلے تو شوہر نے بیوی کے کہنے پر "واٹس اپ" ڈائون لوڈ نہ کرنے سے اتفاق کیا تھا مگر بعد میں اس نے اس نے ایپلی کیشن ڈائون لوڈ کرلی جو دونوں میں طلاق پر منتج ہوئی۔ سرکاری

اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں رواں سال میں میاں بیوی میں تنازعات کے 5000 کا اندراج کیا گیا۔ ان میں سے 50 سے 60 فی صد واقعات کے پس پردہ سوشل میڈیا کا کردار ہے۔ گھریلو جھگڑوں کے ایک ہزار تنازعات طلاق پر منتج ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں