ایک رضاعی ماں کا دودھ پینے والے سعودی جوڑے میں طلاق
دونوں میں 25 سال قبل شادی ہوئی تھی اور ان کے سات بچے ہیں
سعودی عرب کی ایک عدالت نے شیرخواری کی عمر میں ایک ہی رضاعی ماں کا دودھ پینے والے میاں بیوی کا نکاح فسخ کر دیا ہے اور ان میں پچیس سال کے بعد طلاق کرادی ہے۔
ان دونوں میاں بیوی کی پچیس سال قبل شادی ہوئی تھی اور ان کے سات بچے ہیں۔سعودی گزٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان دونوں میاں بیوی لیکن درحقیقت رضاعی بہن بھائی کے کیس کا تین ماہ تک جائزہ لیا جاتا رہا ہے۔
قرآنی تعلیمات کے مطابق اگر دو مختلف ماؤں سے تعلق رکھنے والے بچے ایک تیسری عورت کا دودھ پئیں تو وہ آپس میں رضاعی بہن بھائی ہوتے ہیں اور اس دودھ پلانے والی ماں کے اپنے حقیقی بچے بھی ان کے رضاعی بہن بھائی ہوں گے۔اس لیے اس رضاعت کی بنا پر ان کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا ہے۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے بھی اس کیس کا جائزہ لیا ہے اور انھوں نے ان دونوں کے درمیان طلاق کی منظوری دی ہے۔
-
سعودی عرب: طلاق دینے سے انکار پر خاوند عدالت میں ہو گا
خاوند کے ساتھ جانے سے انکار پر بیوی مالی حقوق سے محروم ہوجائے گی
ایڈیٹر کی پسند -
طلاق کیسز، جعلی بیگمات کی سعودی عدالتوں میں جعلسازیاں
بھائیوں کی بیگمات کی جگہ بہنیں عدالتوں میں پیش ہوتی رہیں
مشرق وسطی -
سعودی عرب: ازدواجی عدم اطمینان نے شرح طلاق بڑھا دی
پچھلے سال کے دوران 1371 خواتین نے طلاق مانگ لی
مشرق وسطی -
"وٹس آپ" کے ذریعے طلاق دینے والوں کو سزا دینے کا مطالبہ
لوگوں نے شریعت کو مذاق بنا لیا :سعودی جج
بين الاقوامى -
سعودی عرب: سوشل میڈیا کے ذریعے طلاق دینے کا خوفناک رحجان
ہر ماہ میں طلاق کے 2231 واقعات ریکارڈ
بين الاقوامى -
سعودی خاتون کی تارک نماز شوہر سے 55 ہزار ریال کے عوض طلاق
شوہر پر قابل اعتراض ویڈیوز دیکھنے کا بھی الزام
مشرق وسطی