مصر : نصف ٹن وزنی خاتون 25 برس سے گھر سے نہیں نکل سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کی 36 سالہ شہری ايمان احمد عبدالعاطی ملک کے شمالی شہر اسکندریہ میں رہتی ہیں۔ ایمان کا وزن اس وقت 500 کلوگرام پہنچ چکا ہے اسی وجہ سے وہ تقریبا 25 برسوں سے اپنے گھر سے باہر نہیں گئی۔ مصر کے ہسپتالوں میں ابھی تک ایمان کو اپنی اس حالت کا علاج میسر نہیں آسکا۔

ایمان کی بہن شيماء احمد عبدالعاطی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ ایمان 1980 میں پیدا ہوئی تو اس کا وزن 5 کلو گرام تھا۔ وہ بچپن سے ہی موٹاپے کا شکار تھی جس میں وقت کے ساتھ تیزی سے اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس دوران متعدد بڑے ڈاکٹروں کو معائنہ کرایا گیا جن کے مطابق ایمان ہارمون کے بہت بڑے بگاڑ سے دوچار تھی جس کے نتیجے میں اس کا وزن خوف ناک حد تک بڑھ گیا۔

شیماء کے مطابق ہارمونوں کی خرابی سے اس کی بہن کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا جس نے اس کی بات چیت کو بھی بری طرح متاثر کیا۔ ایمان کے معدے کو چھوٹا کرنے کے آپریشن بھی کرائے گئے تاہم وہ بے فائدہ رہے۔

ایمان کے علاوہ گھر میں اس کی ماں اور بہن شیماء رہتی ہیں۔ یہ دونوں ماں بیٹی ایمان کو کھلانے پلانے کے علاوہ قضائے حاجت میں اس کی معاونت کرتی ہیں۔ ابتدا میں ایمان اپنے پاؤں پر چلتی تھی تاہم 11 برس کی عمر میں وہ وزن کی زیادتی کے سبب اپنے گھٹنوں پر چلنے لگی اور گھر سے باہر جانے کے قابل نہ رہی۔ اس کے نتیجے میں وہ پرائمری سے آگے اپنی تعلیم بھی جاری نہ رکھ سکی۔ بعد ازاں دماغ کے متاثر ہونے کے بعد وہ صاحب فراش ہو گئی اور کروٹیں لینے پر بھی قادر نہیں رہی۔

شیماء کے مطابق ایمان کے گھر والوں نے اس کے مسئلے کو تمام اعلی اہل کاروں تک پہنچایا اور وزارت صحت نے ایک خصوصی کمیٹی کو معائنے کے لیے ایمان کے گھر بھی بھیجا۔ تاہم اس نے باور کرایا کہ وزارت کے زیر انتظام ہسپتالوں میں اس کا علاج موجود نہیں ہے۔

شیماء کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق ایمان غدود کے عدم توازن اور آبگونی نالیوں کی بندش کے مرض میں مبتلا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم میں بہت بڑی مقدار میں پانی جمع ہو کر وزن کی زیادتی کا سبب بنتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں