سعودیہ: حجام نے معذور شخص کی حجامت بنانے سے انکار کیوں کیا؟
سعودی عرب کے سرحدی شہر جازان میں ایک حجام کی طرف سے جسمانی طور پر معذور یونی ورسٹی کے ایک لیکچرار کی حجامت بنانے سے بار بار انکار پر مقامی انتظامیہ نے حجام کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کی حجام کی دکان بند کردی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے شہر جازان کے رہائشی جسمانی طور پر معذور شہری حمزہ مسملی کئی بار حجام کی دکان پرگیا مگر وہ [حجام] ہر بار اسے نظر نداز کردیتا اور اس کی حجامت بنانے اور شیو کرنے سے انکار کردیتا۔ مسلمی نے حجام کی مسلسل بے اعتنائی برتنے پر بھی کوئی شکوہ نہ کیا۔ اسے ڈرتھا کہ اگر اس کے رویے کے بارے میں انتظامیہ کو پتا چلا تو وہ اس کا کام ہی بند کردے گی۔
آخر کار حمزہ مسملی کو مقامی انتظامیہ سے رجوع کرنا پڑا۔ اس نے نہایت مہذبانہ انداز میں حجام کی بدسلوکی کے بارے میں انتظامیہ کو مطلع کیا۔ شکایت ملنے پر جازان انتظامیہ کے اہلکار خود معذور شہری کے ساتھ حجام کے پاس گئے اور اس سے وجہ پوچھی۔ پہلے تو اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ صاحب جسمانی طور پر معذور ہیں۔ مگر جب اسے کہا گیا کہ وہ بار بار اپنی وہیل چیئر پر اس کے پاس آتا رہا اور وہ ہر بار اس کی شیو اور حجامت بنانے سے انکار کے حیلے بہانے کرتا رہا۔ اس پر اس نے تسلیم کیا کہ وہ دانستہ طور پر معذور شہری کی شیو بنانے اور حجامت کرنے سے اس لیے انکاری رہا ہے کہ کیونکہ وہیل چیئر پر بیٹھے کسی بھی شخص کے بالوں کی کٹنگ اور شیو ’تھکا‘ دینے والا کام ہے۔ حجام کی اس مبینہ بد سلوکی پر انتظامیہ نے اس کی دکان ہی بند کرادی ہے۔
حمزہ مسملی جامعہ جازان میں لیکچرار ہیں۔ ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بھیجے گئے ایک ای میل پیغام میں انہوں نے کہا کہ معذور افراد تندرست لوگوں کی زیادہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ میرے ساتھ حجاج کے نا مناسب رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر معذور کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہوگا۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ حجامت کے پیشے سے منسلک لوگوں کی تربیت کا اہتمام کریں تاکہ وہ معذور افراد کے ساتھ بے اعتنائی نہ برتیں۔ اس کے علاوہ انہیں پابند بنایا جائے کہ وہ معذوروں کی حجامت اور شیو ترجیحی بنیادوں پر کریں۔ کیونکہ معذور شہری دوسروں کی نسبت زیادہ ہمدردی کے مستحق ہوتے ہیں۔