لبنان میں رینیہ معوّض ائیرپورٹ کا افتتاح، ملک کا دوسرا بین الاقوامی ائیرپورٹ بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کی حکومت نے ہفتے کے روز ملک کے دوسرے بین الاقوامی ائیرپورٹ کا افتتاح کیا جس کے چند ہفتوں میں عوام کے لیے کھل جانے کی امید ہے۔

رینیہ معوّض ائیرپورٹ شام کی سرحد کے قریب لبنان کے شمال مغرب میں واقع ہے جہاں وزیرِ اعظم نواف سلام کو لے کر ایک جیٹ طیارہ اترا۔ انہوں نے اس سہولت میں منعقدہ تقریب کی قیادت کی۔

بیروت کا رفیق حریری بین الاقوامی ائیرپورٹ جو بحیرۂ روم کے اس چھوٹے ملک کا واحد بین الاقوامی ائیرپورٹ تھا، گذشتہ کئی سالوں سے خاص طور پر تنازعۂ شام کے دوران تقریباً پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے جس سے یہ شامی شہریوں کے لیے ایک اہم سفری مقام بن گیا ہے۔

ائیرپورٹ بیروت کے شمال میں تقریباً 100 کلومیٹر (60 میل) اور شام کی سرحد سے پانچ کلومیٹر (تین میل) کے فاصلے پر لبنان کے غریب صوبے عکار کے ساحلی گاؤں قلیعات میں ہے جسے ریاستی غفلت کے باعث عشروں سے پسماندہ ہے۔

سلام نے تقریب کے دوران ایک تقریر میں کہا، "یہ سرمایہ کاری کا منصوبہ نہیں بلکہ متوازن ترقی اور خطوں کے درمیان انصاف کی جانب ایک قدم ہے۔"

وزیر برائے نقل و حمل فائیز رسامنی نے کہا، حکومت کا ہدف ہے کہ ائیرپورٹ ہفتوں کے اندر کام کرنا شروع کر دے اور دبئی، متحدہ عرب امارات کے علاوہ استنبول اور مرسین، ترکی کے لیے پروازیں شروع ہو جائیں۔ مستقبل میں ہمارا ایتھنز، یونان، قاہرہ اور سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ کے لیے پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

"یہ لبنان میں ہوائی نقل و حمل کے ایک نئے دور کا آغاز ہے،" رسامنی نے کہا۔

ائیرپورٹ نومنتخب صدر مرحوم رینیہ معوّض کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جو منتخب ہونے کے چند دن بعد 1989 میں بیروت میں ہونے والے ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

نومبر 1989 میں جب 1975-90 کی خانہ جنگی عروج پر تھی تو ائیرپورٹ پر ایک پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا جس کے دوران معوّض صدر منتخب ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں