.

"حمزہ اور حذیفہ ".. بن لادن کی القاعدہ کا وارث بننے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جون 2016 میں حمزہ بن لادن نے "ہم سب اسامہ ہیں" کے نام سے ایک ٹیپ جاری کیا تھا۔ اسی ماہ حذیفہ عبداللہ عزام ٹوئیٹر اور یو ٹیوب پر اپنے والد کے اسلوب اور طریقہ کار کو پھیلانے کے لیے کوشاں رہا۔ عبداللہ عزام اور اسامہ بن لادن عرب اور افغان مجاہدین کے حلقوں میں دو معروف ترین نام ہیں۔ حذیفہ عزام (47 سالہ) اور حمزہ بن لادن (28 سالہ) اپنے والدوں کے نظریات کا وارث بننے کے لیے مقابلے کی دوڑ میں ہیں۔

آیے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی اس رپورٹ کی روشنی میں جانتے ہیں کہ 80ء کی دہائی کے اوائل میں قریبی تعلق رکھنے والے استاد (عبداللہ عزام) اور شاگرد (اسامہ بن لادن) کے بیٹوں کا تعارف حاصل کرتے ہیں۔

حذیفہ عبداللہ عزام 1970 میں مصر میں پیدا ہوا۔ 26 نومبر 1989 کو پشاور میں اس کے والد عبداللہ عزام جاں بحق ہوئے تو حذیفہ کی عمر 19 برس سے زیادہ نہ تھی۔ عزام کے 8 بیٹوں میں اُس کا چوتھا نمبر ہے۔ حذیفہ کی 66 سالہ ماں سمیرہ عزام "ام محمد" فلسطینی نژاد اردنی خاتون ہیں۔ 1965 میں عبداللہ عزام کے ساتھ شادی کے وقت سمیرہ کی عمر صرف 14 برس تھی۔ وہ 1981 میں اپنے شوہر کے ساتھ پشاور منتقل ہوئیں۔ بعد ازاں مجاہدین کی سپورٹ کے لیے بننے والی خواتین کمیٹی کی سربراہی کی جن میں عرب جنگجوؤں کی بیویاں شامل تھیں۔

حمزہ بن لادن 1989 میں سعودی عرب کے شہر جدہ میں پیدا ہوا۔ اس کے والد اور القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن میں جاں بحق ہوئے تو اس وقت حمزہ کی عمر 22 برس کے قریب تھی۔ حمزہ اسامہ بن لادن کی 20 اولادوں میں چوتھا بیٹا ہے جب کہ وہ اسامہ کی تیسری بیوی خیریہ صابر کی اکلوتی اولاد ہے۔ خیریہ کی اسامہ سے شادی 1985 میں ہوئی۔ وہ بچوں کے علم نفسیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتی ہیں۔ اسامہ کی پہلی بیوی نجوی غانم نے سمیرہ کو اپنے شوہر کی تیسری بیوی کے طور پر منتخب کیا تھا۔ ایک کتاب میں نجوی نے خیریہ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ "میرے لیے یہ بات اہم تھی کہ جن عورتوں سے میرے شوہر کی شادی ہو وہ خوف خدا رکھتی ہوں۔ خیریہ بہت زیادہ دین دار تھی۔ تاہم اس کے علاوہ بھی وہ بہت سی ایسی خوبیوں کی مالک ہے جس نے مجھے اس کی جانب کھنچنے پر مجبور کر دیا۔ میں اس کے مسحور کر دینے والے چہرے کو دیکھنے کے بعد پہلے ہی لمحے متاثر ہو گئی"۔ خیریہ ابتدا میں اسامہ کی دو بیویوں نجوی اور خدیجہ کے ساتھ سوڈان میں رہی۔ اس کے بعد افغانستان میں تورا بورا کی پہاڑیوں میں منتقل ہو گئی۔ 11 ستمبر کے واقعات کے بعد وہ اپنے بیٹے حمزہ کے ہم راہ ایران میں مقیم ہوئی۔ اسامہ بن لادن کے دیگر بچے اسے "خالہ خیریہ" کے نام سے پکارتے تھے۔ حذیفہ عزام اور حمزہ بن لادن کی ماؤں کے درمیان پرانی آشنائی رہی ہے۔

القاعدہ کا سربراہ اور عرب افغان امیر

عبداللہ عزام سے اسامہ بن لادن کا تعارف 70ء کی دہائی کے اواخر میں ہوا جہاں اسامہ اردن کے شہر صویلح میں عزام کے گھر بھی گیا۔ 80ء کی دہائی کے اوائل میں عبداللہ عزام نے جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونی ورسٹی میں بطور استاد فرائض انجام دیے۔ اس دوران اسامہ کا عزام سے تعلق مزید گہرا ہو گیا اور وہ عزام سے شدید متاثر ہو کر انہیں اپنا روحانی باپ ماننے لگا۔

1981 میں عبداللہ عزام پشاور منتقل ہو گئے تو بھی ان کا اسامہ کے ساتھ رابطہ رہا یہاں تک کہ اسامہ افغانستان میں مجاہدین کے بیورو کے اخراجات کی ادائیگی کرنے لگا۔ بعد ازاں 1984 میں اسامہ پشاور پہنچ کر عزام کے ساتھ جُڑ گیا۔ دونوں استاد اور شاگرد نے فن خطابت سے کام لیتے ہوئے عرب جنگجوؤں کو بڑی تعداد میں افغان جنگ کے لیے بھرتی کیا۔ تاہم دونوں کے معتقدین علاحدہ حصوں میں منقسم ہو گئے۔ اس سلسلے میں "الفرقان" اور "الماسدہ" عسکری کیمپ بن لادن کے تھے جب کہ عزام کے چاہنے "صدى" عسکری کیمپ میں جمع ہوئے۔

1986 – 87 میں اسامہ بن لادن کی شخصیت میں خود مختاری کے آثار نمایاں ہوئے۔ زمینی طور پر مختلف نقطہ ہائے نظر کے باوجود دونوں ایک دوسرے کو "بے نظیر" شمار کرتے تھے۔

اگست 1988 میں اسامہ کے روحانی مرشد عبداللہ عزام نے اسامہ کو تجویز پیش کی کہ ایک ایسا وسیع ادارہ قائم کیا جائے جس کے ذریعے جنگوؤں کو "مثالی انداز سے عالم اسلام میں مزاحمت" کا پلیٹ فارم میسر آجائے۔ اسامہ نے اس خیال سے مکمل طور اتفاق کیا اور پھر "القاعدۃ العسكريۃ" کے نام سے اس منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ یہ نام بعد میں مختصر ہو کر "القاعدہ تنظیم" بن گیا۔

افغان جہاد کے چوٹی کے ان دو رہ نماؤں کے درمیان آخری ملاقات 1989 میں ہوئی۔ اسی سال اسامہ کو اپنے ایک بھائی کے جنازے میں شرکت کے لیے سعودی عرب لوٹنا پڑا۔ آخری ملاقات کے بارے میں حذیفہ عزام کا کہنا ہے کہ " میرے والد نے جب شیخ اسامہ کو سعودی عرب کے سفر سے قبل الوداع کیا تو دونوں شخصیات کے درمیان ایک طویل معانقہ ہوا۔ غالبا دونوں کا گمان تھا کہ اب وہ ایک دوسرے سے نہیں مل سکیں گے۔ انہیں محسوس ہو چکا تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ اس دوران ہم نے دیکھا کہ دونوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ دونوں ہی بہت دیر تک روتے رہے یہاں تک کہ وہاں موجود تمام لوگ آبدیدہ ہو گئے"۔

حمزہ عُرف "ناصر الدين"

اگرچہ دونوں خاندان کئی برس تک مضبوط اور قریبی تعلقات کے حامل رہے تاہم افغانستان کے حالات اور پیش رفت نے حمزہ اور حذیفہ کو قریب سے متعارف ہونے کا موقع نہیں دیا۔ 11 ستمبر کے بعد افغانستان سے کوچ کرتے وقت حمزہ بن لادن کی عمر 12 برس کے قریب تھی جب کہ حذیفہ اس وقت 31 برس کا ہو چکا تھا۔ عمر کے فرق کے سبب حذيفہ اپنے والد کے روحانی شاگرد کے بیٹے "حمزہ" سے متعارف نہ ہو سکا اور وہ حمزہ کو محض ایک بچے کی نظر سے دیکھتا تھا جس کی شخصیت نمایاں ہو کر سامنے نہیں آئی تھی۔

اسامہ بن لادن کے دنیا سے رخصت ہونے کے 6 برس اور اس کے شیخ عبداللہ عزام کے جاں بحق ہونے کے 28 برس بعد ایک مرتبہ پھر 47 سالہ حذیفہ اور 28 سالہ حمزہ کے نام منظر عام پر آ گئے ہیں۔ اس مرتبہ یہ نام افغان عرب کی خدمات کے بیورو اور القاعدہ تنظیم کی میراث کے حوالے سے مقابلے کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔

یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ دونوں میں سے کون ایسی شخصیت کا مالک ہے جو اسلام پسند اور بنیاد پرست شدت پسند جماعتوں کے لیے اپنے والدوں کی نظریاتی میراث کا وارث بن سکے؟

حمزہ بن لادن جس کو القاعدہ تنظیم کی طرف سے "ناصر الدين" کا خطاب دیا گیا ہے.. وہ سوڈان، تورا بورا ، قندھار اور پھر 11 ستمبر کے حملوں تک اپنے باپ کے ساتھ رہا۔ اس نے زیادہ تر وقت اسامہ کی صحبت میں گزارا۔ اسامہ کی پہلی بیوی نجوى غانم کی زبانی معلوم ہوا کہ "حمزہ بہت زیادہ متحرک اور چاق و چوبند تھا اور وہ جادوئی طریقے سے فریب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے"۔

بعد ازاں حمزہ اپنے والد سے جدا ہونے پر مجبور ہو گیا اور اسامہ پاکستان میں اپنے جاں بحق ہونے سے قبل حمزہ کو دیکھنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ 1963 میں جنم لینے والا القاعدہ کمانڈر ابو یحی اللیبی جس کا حقیقی نام محمد عبدالمجید حسن تھا وہ حمزہ کی نگرانی اور اس کی جائے اقامت کی دیکھ بھال کا ذمے دار تھا۔ اللیبی القاعدہ تنظیم میں تزویراتی منصوبہ ساز شمار کیا جاتا تھا۔ وہ 4 جون 2012 کو پاکستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔

حمزہ پہلی مرتبہ 2005 میں ایک ویڈیو کلپ میں طالبان جنگجوؤں کے ہمراہ ظاہر ہوا تھا جنہوں نے جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کے اہل کاروں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس سے قبل 2003 میں حمزہ سے منسوب ایک آڈیو پیغام القاعدہ کی ایک ویب سائٹ پر جاری ہوا تھا جس میں اُس نے کابل ، بغداد اور غزہ میں اپنے پیروکاروں پر زور دیا تھا کہ وہ امریکا ، برطانیہ اور فرانس کے خلاف جہاد کا اعلان کریں۔

2008 میں حمزہ بن لادن جس کی عمر اس وقت 19 برس کے قریب تھی، اس کا ایک وڈیو ٹیپ جاری ہوا جس میں اس نے حملوں کے ذریعے برطانیہ ، امریکا ، ڈنمارک اور فرانس کا وجود ختم کر دینے کی دھمکی دی تھی۔

اگست 2015 میں حمزہ بن لادن سے منسوب ایک آڈیو پیغام سامنے آیا جس میں اس نے طالبان سربراہ ملا عمر کی بیعت میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف بھرپور حملوں کا مطالبہ کیا تھا۔ حمزہ نے القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے "جہاد میں والد کا ساتھی" قرار دیا۔ ساتھ ہی حمزہ نے جزیرہ عرب ، شام ، فلسطین ، عراق ، مراکش ، صومالیہ ، بھارت ، چیچنیا اور انڈونیشیا میں القاعدہ کی شاخوں اور تنظیم کے پیروکاروں کو بھی سراہا۔

10 جون 2016 کو حمزہ نے ایک آڈیو ٹیپ میں امریکا سے اپنے والد کا انتقام لینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو اس کی سرزمین کے اندر اور باہر سے حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

حمزہ اپنے دیگر بھائیوں کی نسبت اپنے والد کا عکسری وارث بننے کا زیادہ اہل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسامہ کی پہلی اور دوسری بیوی کے بچوں کی طرح سخت حالات سے تنگ آ کر واپس سعودی عرب میں پر تعیش زندگی کی طرف نہیں لوٹا۔ حمزہ نے بچپن میں جدہ شہر سے کوچ کیا تو اس کی عمر صرف 3 برس تھی۔ اس نے سوڈان میں 5 برس گزارے۔ وہاں سے وہ تورا بورا کے پہاڑوں میں منتقل ہوا اور پھر ایران پہنچا یہاں تک کہ آخرکار وزیرستان میں طالبان کے درمیان نظر آیا۔ اسامہ کا بڑا بیٹا "عبداللہ" سوڈان میں ہی اپنے باپ کو چھوڑ کر واپس جدہ آ گیا تھا۔ اسی طرح کچھ عرصے بعد "علی" اور پھر چند برس بعد "عمر" نے بھی واپسی کا بستر باندھ لیا۔

اگلی رپورٹ میں ہم دونوں بیٹوں اور ان کے باپوں کے درمیان بنیادی فروق پر روشنی ڈالیں گے۔