.

شاہ سلمان نے جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد کو کیا تحفہ دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے انڈونیشیا کے دورے کے موقع پر دارالحکومت جکارتہ میں جمعرات کے روز جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد کا دورہ کیا ہے۔میزبان صدر جوکو وِدودو بھی ان کے ساتھ تھے۔

مسجد استقلال انڈونیشیا کی ہالینڈ سے آزادی کی یادگار ہے اور یہ آزادی کی علامت کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔اس کی تعمیر کا آغاز 1961ء میں ہوا تھا اور یہ 1975ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی تھی۔اس مسجد کو 1978ء میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔

دنیا میں سب سے بڑے اسلامی ملک کی یہ سب سے بڑی مسجد ایک منفرد فن تعمیر کا شاہکار ہے،اس میں بیک وقت دو لاکھ افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔اس کا ایک مینار 90 میٹر بلند ہے اور اس کی مرکزی عمارت دو بڑے گنبدوں پر مشتمل ہے۔

خادم الحرمین الشریفین نے اس مسجد کے لیے قرآن مجید کی آیات والا کپڑے کا ایک خوب صورت ٹکڑا تحفے کے طور پر دیا ہے۔ غلافِ کعبہ کی طرح سیاہ رنگ کے اس کپڑے پر سنہرے دھاگے سے آیاتِ قرآنی کی کشیدہ کاری کی گئی ہے۔

انھوں نے انڈونیشی صدر کے ساتھ مسجد استقلال میں نماز ادا کی اور اس کے بعد صدارتی محل میں ملک کے متعدد اسلامی مذہبی قائدین سے ملاقات کی۔ شاہ سلمان انڈونیشیا کے بارہ روزہ دورے پر ہیں۔بدھ کے روز دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون کے گیارہ سمجھوتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔

مسجد الاستقلال
مسجد الاستقلال