.

سعودی عرب : لڑکیوں کے مہر کے طور رکھی جانے والی 7 انوکھی شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موجودہ زمانے میں شادی کے بارے میں سوچنے والے نوجوان کے ذہن میں فوری طور پر سب سے پہلے لڑکی والوں کی طرف سے عاجز کر دینے والی شرائط اور مہر کی بھاری رقم آتی ہے۔ تاہم ہر جگہ استثنائی حالات بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ شادی ایک "کاروبار" بن چکی ہے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر ایسی کہانیاں بھی موجود ہیں جن میں لڑکیوں کے والدوں نے اپنی بیٹی کی شادیوں کے لیے "اخلاق اور دین" کو اولین شرط بنایا۔

کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر ایک وڈیو گردش میں آئی تھی جس میں جازان صوبے میں ایک سعودی باپ نے اپنی بیٹی کا رشتہ پیش کرنے والے نوجوان کے سامنے مہر کے طور پر قرآن کریم حفظ کرنے کی شرط رکھی۔ اس 26 سالہ نوجوان نے آسودہ حال ہونے کے باوجود اس شرط کو پورا کرنے کی کوشش کی اور واقعتا اس نے قرآن کریم مکمل طور پر حفظ کر لیا۔ اس کے بعد اس کی شادی بھی ہو گئی۔

ادھر عسیر صوبے کے شہر ابہا میں ایک سعودی شہری نے اپنی ڈاکٹر بیٹی کا رشتہ پیش کرنے والے نوجوان کو مہر میں صرف 10 ریال کی شرط رکھ کر حیران کر ڈالا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ شہری ابہا شہر کے ایک اسکول میں نائب پرنسپل ہے اور رشتہ پیش کرنے والا نوجوان اس کا اپنا بھتیجا ہے۔ اس علامتی رقم کا مقصد نوجوانوں کے لیے شادی کو آسان بنانا اور بھاری اخراجات کے رواج کو توڑنا ہے جن سے نوجوانوں کی شادی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

عسیر صوبے کے ہی ایک علاقے ثربان میں ایک سعودی شہری نے اپنی بیٹی کی شادی ایک نوجوان کے ساتھ محض ایک ریال مہر کے بدلے کر دی۔ مذکورہ شہری نے اپنے ہونے والے داماد سے مہر طلب کرنے سے انکار کر دیا اور مہر کی بھاری رقوم طلب کرنے والے والدوں کے لیے ایک پیغام دیا تاکہ دین کی تعلیمات کے مطابق شادی کو آسان بنایا جائے۔

ایک سعودی شہری نے اپنی بیٹی کی شادی دولہا کی جانب سے دیے جانے والے ولیمے کے عشائیے کے مقابل کر دی۔ ایک دوسرے سعودی والد نے اپنی بیٹی کے ہونے والے شوہر کے لیے سورت "المُلک" حفظ کرنے کی شرط رکھی اور اسے لڑکی کا کُل مہر قرار دیا۔ نکاح خواں نے اس شرط کو مہر کے طور پر شادی کے کاغذات میں درج کیا۔

ایک اور انوکھے واقعے میں سعودی لڑکی نے اپنے ہونے والے دولہا کے لیے 300 گوہ پیش کرنے کی شرط رکھ دی اور یہ کہ تمام گوہ کسی کی مدد کے بغیر جمع کی جائیں۔ تین ماہ کی محنت کے بعد دولہا میاں 100 گوہ ہی جمع کر سکے۔ لڑکی کی جانب سے اس شرط کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ دولہا اس کو شریک حیات بنانے کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ دولہا کو گوہ سے شدید خوف محسوس ہوتا تھا جس نے ایک فوبیا کی شکل اختیار کر لی تھی تاہم وہ اس شرط کے بعد اپنے خوف پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔

ادھر ایک سعودی شہری نے اپنی بیٹی کے لیے رشتہ پیش کرنے والے نوجوان کے "اپنے والد کے لیے اخلاص" کو ہی بیٹی کے مہر کے طور پر قبول کر لیا۔ مذکورہ نوجوان نے اپنے والد کی جان بچانے کے واسطے انہیں اپنے جگر کا کچھ حصہ عطیہ کیا تھا۔ نوجوان نے خاموشی سے ہسپتال جا کر متعلقہ ٹیسٹ کروائے اور اپنے دیگر بھائیوں کو پتہ نہیں چلنے دیا جو تمام شادی شدہ اور بال بچوں والے تھے۔ اس نوجوان نے جب اپنی ماموں زاد بہن کے لیے رشتہ پیش کیا تو لڑکی کا باپ بنا کسی مہر کی رقم کے آمادہ ہو گیا اور کہا کہ نوجوان کا اپنے باپ کے لیے جگر کا کچھ حصہ عطیہ کرنا "اس کی بیٹی کے لیے قیمتی ترین مہر" ہے۔