قطر نے بحرین میں ایرانی پروگرام کی کیسے معاونت کی؟
خلیجی ریاست بحرین میں حکومت کے خلاف جاری شورش میں ایرانی پروگرام کو آگے بڑھانے میں قطر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قطری حکومت نے بحرین کے اندرونی معاملات میں کئی طرح سے مداخلت کی۔ منامہ حکومت کے خلاف لڑنے والی دہشت گرد تنظیموں اور شخصیات کی ہر طرح سے مدد کی گئی۔ حکومت مخالف ملیشیاؤں کو فنڈز فراہم نےکے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کے خاندانوں کو قطر میں پناہ دینے کے ساتھ ساتھ انہیں قطر کی شہریت بھی دی گئی۔
قطر کی جانب سے منامہ میں افراتفری پھیلانے کا اصل مقصد ایران نواز شخصیات کو اقتدار تک پہنچانا اور بحرینی حکومت کا سقوط تھا، مگر ایران اور قطر دونوں مل کر بھی اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
خلیجی ملکوں کے حالیہ بحران کی ایک اہم وجہ دوحہ کی دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے جس پر تین خلیجی ملکوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ مصر کو بھی دوحہ کا سفارتی بائیکاٹ کرنا پڑا۔ اگر قطری حکومت دہشت گردوں کی مالی معاونت اور ان کی پشت پناہی کا سلسلہ چھوڑ کر دوسرے خلیجی ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز آجائے تو اس کے سفارتی بائیکاٹ کا جواز باقی نہیں رہے گا۔
سنہ 2011ء میں بحرین میں حکومت کے خلاف پرتشدد احتجاج کی لہر اٹھی۔ تشدد کے پیچھے ایرانی رجیم کی حمایت یافتہ تنظیمیں اور شخصیات تھیں۔ منامہ میں ایرانی قونصل خانے نے بھی پرتشدد واقعات کو ہوا دی۔ قونصل خانے کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کو رابطے کے آلات مہیا کیے جانے کا انکشاف ہوا تو منامہ نے ایرانی سفارتی عملے کو ملک سے نکال دیا۔
بحرین میں حکومت وقت کے خلاف بغاوت کے پیچھے ایران کا کھلم کھلا ہاتھ تھا مگر اس بغاوت میں قطر کی مداخلت بھی مخفی نہیں تھی۔
حال ہی میں بحرینی اخبار ’الوطن‘ نے قطری مداخلت کے بارے میں وہ تمام راز فاش کردیے جو خلیجی وحدت کو نقصان پہنچنے کے اندیشے کے تحت صیغہ راز میں رکھے تھے۔
اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قطر نے ایک طرف ایرانی حکومت سے رابطہ رکھا اور دوسری طرف بحرین میں حکومت کے خلاف سرگرم تنظیموں سے بھی روابط قائم رکھے۔ ان میں سر فہرست ’الوفاق آرگنائزیشن‘ شامل ہے جس نے رابطے کے لیے قطری اقدام کی اصطلاح بھی استعمال کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق قطری وزیراعظم الشیخ حمد بن جاسم آل ثانی نے مارچ 2011ء کے بعد حکومت مخالف تنظیم ’جمعیہ الوفاق‘ کے سربراہ علی سلمان سے مسلسل رابطہ رکھا۔ اسی دوران بحرین کے دفاع کے لیے ’جزیرہ کی ڈھال‘ آپریشن کے نام سے فوج منامہ داخل کی گئی۔
قطری وزیراعظم الشیخ حمد نے ’جمعیہ الوفاق‘ سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کے خلاف سرگرم دیگر تمام تنظیموں سے بھی رابطے میں رہے اور اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے متحد ہوکوششیں کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ قطر نے بحرینی حکومت پر شرپسند عناصر کو گرفتار نہ کرنےمخالفین کو پرامن احتجاج جاری رکھنے پر زور دیا۔
قطری اقدام کے تحت منامہ حکومت سےکہا گیا کہ وہ اپوزیشن کو احتجاج کا مکمل حق فراہم کرے، بحرین ٹیلی ویژن چینل بند کردے، حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا کرے اور دو ماہ کے اندر اندر ملک میں عبوری حکومت تشکیل دے۔
ایران نواز اپوزیشن تنظیم ’الوفاق‘ کو یہ تمام مطالبات منظور تھے۔ قطری حکومت نے اسے یہ یقین دلایا تھا کہ وہ منامہ سے یہ تمام مطالبات منوا لے گا۔ بحرین میں عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی جس میں الوفاق کو بھی شامل کیاجائے گا۔
مئی 2014ء اخبارات کے ذریعے اطلاعات سامنے آئیں کہ ملک میں حکومت کے خلاف سرگرم بعض تنظیموں سے وابستہ ارکان کے خاندان بحرین سے قطر نقل مکانی کررہے ہیں۔ اس پر قطر حکومت نے مکمل خاموشی اختیار کی۔ بحرین کے وزیرخارجہ الشیخ خالد بن احمد آل خلیفہ وضاحت کی کہ قطر بحرینی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے عناصر کے اہل خانہ کو اپنے ہاں نہ صرف پناہ دے رہا ہے بلکہ انہیں قطری شہریت دی جا رہی ہے۔
اسی دوران 12 جولائی 2014ء کو خلیجی ٹی وی ’روتانا‘ پر ایک رپورٹ نشر کی گئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ قطر کی طرف سے بحرینی اپوزیشن کے حامی خاندانوں کو قطری شہریت کا لالچ دے کرانہیں دوحہ لایا جا رہا ہے۔
بحرینی وزیرخارجہ نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ بحرین میں امن واستحکام کو سبوتاژ کررہا ہے۔ حکومت مخالف خاندانوں کو قطری شہریت دے کر بحرینی عوام اور اپوزیشن کے درمیان ایک نئی تفریق پیدا کی جا رہی ہے۔ انوہں نے قطر پر بحرینی شہریوں کے ساتھ مذہبی بنیادوں ڈیل کا الزام عاید کیا اور کہا کہ دوحہ سنی قبائل کو اپنے ہاں شہریت دے رہا ہے اور اہل تشیع کے لیے اس کے دروازے بند ہیں۔
کوئی ایک ماہ بعد بحرین وزیر داخلہ الشیخ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے کہا کہ ان کا ملک قطر کے خلاف بحرینی شہریوں کو شہریت دینے کے خلاف سخت اقدامات پر مجبور ہو ہے۔ انہوں نے قطر کے کردار کو شرمناک قرار دیتے ہوئے بحرینی قوم میں تفریق ڈالنے کی سازش کا بھی الزام عاید کیا۔
سنہ 2014ء میں خلیجی ممالک میں پیدا ہونے والے بحران کے دوران بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قطر سے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔ بعد ازاں قطر اور پڑوسی ملکوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے میں یہ شرط شامل تھی کہ قطر بحرینی شہریوں کو اپنے ہاں پناہ دےگا اور نہ ہی شہریت دی جائے گی۔ اس معاہدے کے چند ماہ بعد بحرینی حکومت کے ایک عہدیدار نے ’الشرق الاوسط‘ اخبار کو بتایا کہ دوحہ بحرینی خاندانوں کوقطری شہریت نہ دینے کی شرط پرعمل درآمد نہیں کررہا ہے بلکہ بحرینی خاندانوں کو بدستور قطری شہریت دی جا رہی ہے۔
بحرینی خاندانوں کو قطر کی شہریت ایک ایسے وقت میں دی جا رہی تھی جب اس کے ساتھ ساتھ دوحہ بحرین میں حکومت کے خلاف لڑنے والی ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں سے بھی مکمل رابطے میں تھا۔
بحرین نے قطر کے ساتھ یہ کہہ کر تعلقات منطقع کیے کہ دوحہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کی منامہ میں افراتفری پھیلانے میں مدد کررہا ہے۔ نیز دوحہ نے پڑوسی ملکوں میں عدم مداخلت کے تمام معاہدوں اور بین الاقوام قوانین کی بھی دھجیاں اڑا دی ہیں اور خود کو ایک اچھا پڑوسی ثابت کرنے کے بجائے ہمسایہ ملکوں کے لیے ہمہ وقت مسائل پیدا کرنے والا ملک ثابت کیا ہے۔
خلیجی ملکوں کی طرف سے قطر کے سفارتی بائیکاٹ کے چند روز بعد بائیکاٹ کرنے والے ممالک نے ایک مشترکہ فہرست جاری کی جس میں دہشت گردی میں ملوث 59 شخصیات اور 12 تنظیموں کے نام شامل تھے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ قطر کی جانب سے ان تنظیموں اور شخصیات کو مکمل مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
الاشتر گروپ انتہا پسند اہل تشیع کا نمائندہ ہے جو عقائد کے اعتبار سے الشیرازی گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس گروپ کے نظریات میں امام مہدی الغائب کے ظہور کے لیے اہل تشیع کو باقاعدہ انقلاب برپا کرنا ہوگا اور اس انقلاب کے لئے جدو جہد ان کے نزدیک واجب ہے۔
بحرینی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ تنظیم سنہ 2012ء کے آخر میں قائم کی گئی۔ احمدیوسف سرحان المعروف ابومنتظر اور جاسم احمد عبداللہ المعروف ذوالقفار اس کے سرکردہ لیڈر تھے۔ دونوں ایران میں مقیم تھے۔گذشتہ برس امریکا نے ان دونوں شخصیات کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے’سرایا الاشتر‘ کو بھی بلیک لسٹ کردیا۔
شیعہ سیاسی اسلام کی نمایندہ یہ تنظیم ایران میں ولایت فقیہ کی تابع ہے۔ یہ تنظیم بھی بحرین میں 2011ء کے ہنگاموں کے دوران سامنے آئی۔ بحرین میں اس کی قیادت الشیرازی گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک شیعہ شدت پسند ھادی المدرسی کے ہاتھ میں تھی۔ اس کے علاوہ اندرون اور بیرون ملک اس کے کئی عناصر سرگرم تھے جنہیں ایران اور قطر کی معاونت بھی حاصل رہی۔
بحرین میں حکومت کے خلاف سر اٹھانے والے گروپوں میں ’مزاحمت بریگیڈ‘ بھی سر فہرست ہے۔ اس گروپ نے انٹرنیٹ کے ذریعے عوام کو حکومت کے خلاف اشتعال دلانے کی سازش کی۔ ملک میں بم دھماکوں، سیکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ترغیبات دیں۔ سترہ میں پولیس اسٹیشن، الخمیس اور مرک النبیہ صالح کے مقام پر دہشت گردی کے واقعات میں یہی گروپ ملوث پایا گیا۔
یہ تنظیم سنہ 1981ء سے بحرین میں سرگرم ہے۔ حزب اللہ بحرین کا قیام بحرین میں انقلاب کی ناکام کوشش کے دوران عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ تنظیم ’اسلامی محاذ برائے آزادی بحرین‘ سے اپنا تعلق بتاتا ہے۔ اسلامی محاذ برائے آزادی بحرین نے حزب اللہ نامی اس گروپ کو اپنا عسکری ونگ بنایا۔ اس گروپ لبنانی حزب اللہ اور ایران کے ساتھ گہرے مراسم رہے ہیں۔ اس تنظیم سے وابستہ عناصر کو لبنان اور شمالی ایران میں کوج کیمپ میں عسکری تربیت بھی دی گئی۔
حزب اللہ بحرین نام بدل بدل کر کام کرتی رہی ہے۔ ان میں تحریک احرار بحرین، سلیب الوطن آرگنائزیشن اور دیگر ناموں کے ساتھ سرگرم یہ گروپ ملک میں کئی ایک پرتشدد کارروائیوں کا ذمہ دار ہے۔
ایران کی حمایت سے بحرین میں کام کرنے والے گروپوں میں المختار بریگیڈ اور تحریک احرار بحرین بھی شامل ہیں۔ المختار گروپ کا قیام سنہ 2011ء میں عمل میں لایا گیا۔ اس کامقصد بھی ملک میں طاقت کے ذریعے حکومت کو ختم کرنا اور ایران کی حمایت یافتہ حکومت کا قیام تھا۔
تحریک احرار بحرین سنہ 1994ء میں قائم کی گئی مگر اسے لندن میں موجود سعید الشھابی نامی ایک شخص نے چلانے کی کوشش کی۔