پاکستان نے مزدور حکمتِ عملی کو سعودی ویژن 2030 سے ہم آہنگ کر دیا

دو ہزار تیس تک 10 لاکھ کارکنان کا ہدف، تعمیر، مہمان نوازی، صحت، آئی ٹی، ہوابازی میں مواقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان نے 2030 تک 10 لاکھ کارکنان کو سعودی عرب بھیجنے کے لیے انسانی وسائل کی تعیناتی کا ایک طویل مدتی منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ مزدوروں کی نقل و حرکت کی حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ہے جو مملکت کے ویژن 2030 کے اقتصادی تبدیلی کے ایجنڈے سے ہم آہنگ ہے۔

سروے کے مطابق 1972 کے بعد سے 15 ملین سے زائد پاکستانی سرکاری طریقہ کار کے ذریعے ملازمت کے لیے بیرونِ ملک گئے ہیں جن میں سے 96 فیصد سے زائد رجسٹرڈ کارکنان خلیج تعاون کونسل کے ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات گئے ہیں۔

تازہ ترین منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اپنے پروگرام ویژن 2030 کے تحت تعمیرات، انفراسٹرکچر، سیاحت، ہوا بازی، لاجسٹکس، صحت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو وسعت دے رہا ہے۔ اس سے ہنرمند اور نیم ہنرمند دونوں زمروں میں غیر ملکی مزدوروں کی طلب پیدا ہو رہی ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی آبادی اور کارکنان کی بڑھتی ہوئی تعداد کا حامل پاکستان روایتی کم ہنرمند سے اعلیٰ ہنرمند اور زیادہ ترسیلاتِ زر والے روزگار کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سروے میں کہا گیا، "مملکت کے ساتھ پاکستان کی مشغولیت کو سعودی پاکستان اقتصادی تعاون فریم ورک (ایس پی ای سی ایف) کے تحت ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے جو مزدوروں کی نقل و حرکت، انسانی سرمائے کی ترقی اور وژن 2030 کے ساتھ اقتصادی تعاون کو ہم آہنگ کرنے والا تزویری پلیٹ فارم ہے۔"

نیز کہا گیا، "ایس پی ای سی ایف کے تحت انسانی وسائل کی تعیناتی کا ایک منصوبہ (2025-2039) تیار کر کے سعودی فریق کے ساتھ اس کا اشتراک کیا گیا ہے جس میں ابتدائی طور پر 10 لاکھ پاکستانیوں کو 2030 تک سعودیہ بھیجنے اور پھر 2039 تک 1.51 ملین سالانہ بیرونِ ملک تعیناتیوں کا ہدف بنایا گیا ہے۔ اس کی مدد سے سعودی ضرورت سے مطابقت کو یقینی بناتے ہوئے ہنرمند، نیم ہنرمند اور اعلیٰ قابلیت کے حامل کارکنان کو سعودیہ بھیجا جائے گا۔ یہ کارکنان تعمیراتی شعبے، مہمان نوازی، سیاحت، صحت، آئی ٹی، لاجسٹکس، ایوی ایشن، اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں کام کریں گے۔"

سروے میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں پاکستان سے سب سے کارکنان سعودیہ بھیجے گئے، اس کے بعد قطر اور پھر متحدہ عرب امارات۔

دستاویز میں کہا گیا کہ اس حوالے سے سعودی عرب کا غلبہ "بنیادی طور پر وژن 2030 کے ایجنڈے کی بنا پر تھا جس نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تعمیرات اور خدمات میں نمایاں طور پر وسیع مواقع پیدا کیے ہیں"۔

اس کے برعکس متحدہ عرب امارات کا معاملہ مختلف رہا جس کی وجہ کووڈ-19 کے بعد سخت ضوابط اور لیبر مارکیٹ کی بدلتی ترجیحات کو قرار دیا۔ عمان میں بھی نئی پالیسیوں کی وجہ سے کمی ریکارڈ کی گئی جس کا مقصد عمان کا اپنے ملک کے شہریوں کے روزگار میں اضافہ کرنا تھا۔

سروے میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے لیے پاکستان کی افرادی قوت میں اضافہ "میگا اور گیگا پروجیکٹس" کی بدولت ہوا اور تعمیرات، مہمان نوازی، صحت، انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ میں ہدفی تربیت کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

سروے کے مطابق پاکستان نے 3.8 بلین ڈالر کا سعودی سرمایہ کاری فریم ورک تجویز کیا ہے جس میں 2.7 بلین ڈالر تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے لیے اور ایک بلین ڈالر اعلیٰ تعلیم کے لیے شامل ہیں۔

ابتدائی نتائج میں 70 سے زیادہ مفاہمتی یادداشتیں ہوئیں۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی میزبانی میں 2034 فیفا ورلڈ کپ کے لیے افرادی قوت کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے جس کا ہدف 2026 اور 2034 کے درمیان تین سے چار لاکھ کارکنان کو انفراسٹرکچر، ایوی ایشن، سیاحت اور متعلقہ خدمات میں بھیجنا ہے۔

سروے میں کہا گیا کہ تکامل سکل ویری فکیشن پروگرام کے تحت پاکستان نے مالی سال 2026 کے دوران جولائی تا مارچ میں سعودی ملازمت کے تصدیق شدہ ویزوں کے حامل 366,157 امیدواروں کا جائزہ لیا۔ ان میں سے 292,556 اہل تھے جو تقریباً 80 فیصد کے برابر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں