.

العربیہ کی جانکاری مہم اور " پروسٹیٹ کینسر" سے متعلق آگاہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل ایک ماہ کے لیے " #العربية_معرفة " کے عنوان سے خصوصی کوریج کا آغاز کر رہا ہے۔ اس دوران زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق موضوعات کی ایک بڑی تعداد پر روشنی ڈالی جائے گی۔

اس ایک ماہ کی خصوصی کوریج کے سلسلے میں مردوں کے امراض بالخصوص مثانے کے غدود (Prostate Gland)کے سرطان کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے گی۔ غدودِ مثانہ کا سرطان مردوں میں پھیلنے والا دوسرا سب سے بڑا سرطان ہے۔

مثانے کے غدود کے سرطان کو "مردوں کے لیے خاموش قاتل" کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سرطان کی یہ قسم سست رفتاری کے ساتھ بڑھتی ہے اور اس کی قبل از وقت کوئی علامت نہیں پائی جاتی۔ بعض مرتبہ اس سرطان کو علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ مریض کی زندگی کو متاثر نہیں کرتا ہے۔

مثانے کے غدود کا سرطان دیگر اقسام کے سرطانوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ بات مشہور ہے کہ غدود میں سرطان کے خلیے اچھی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور کسی پیچیدگی کا سبب نہیں بنتے۔ تاہم تاخیر ہو جانے کی صورت میں شفایاب ہونے کے مواقع اور امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں ڈاکٹروں کی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ مرض کے بڑھنے کی رفتار کو سست کر دیا جائے تا کہ مریض کی زندگی لمبی ہو سکے۔

اس سرطان کی وجوہات ابھی تک جانی نہیں گئیں ہیں تاہم بعض عوامل ہیں جو اس کے واقع ہونے کے امکان میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ بالخصوص مردوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ جہاں 50 برس سے زیادہ عمر کے مردوں میں اس میں مبتلا ہونے کی شرح کافی زیادہ ہے۔ البتہ اُن مردوں میں مثانے کے غدود کے سرطان کی شرح نسبتا کم ہوتی ہے جن کے کسی عزیز کے پہلے مرحلے میں ہی اس مرض کی تشخیص کر دی گئی ہو۔

یہ سرطان افریقی نژاد مردوں میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے جب کہ ایشیائی نژاد مردوں میں اس کی شرح سب سے کم ہے۔

پروسٹیٹ گلینڈ انسانی مثانے کے نیچے ایک چھوٹا سا غدود ہوتا ہے۔ یہ مردوں کے تناسلی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔

پروسٹیٹ گلینڈ مادہ منویہ میں مرکزی سیال تیار کرتا ہے۔

اس گلینڈ کے بڑھ جانے سے مردوں میں پیشاب کی قدرت متاثر ہوتی ہے۔