ایران-امریکہ مذاکرات کے ابتدائی دور کے کلیدی نکات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران اور امریکہ نے پیر کے روز سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاک ریزارٹ میں دوطرفہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل کر لیا جس میں تکنیکی بات چیت جاری رہے گی۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ثالث پاکستان اور قطر کی مدد سے حاصل ہونے والی "بڑی پیش رفت" کو سراہا جبکہ امریکی حکومت نے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

پہلے دور کے مذاکرات کے اختتام پر پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان کے اہم نکات یہ ہیں:

حتمی معاہدے کے طریقہ کار پر اتفاق

بیان کے مطابق مذاکرات کی نگرانی کے لیے تہران اور واشنگٹن کی قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے "60 دنوں کے اندر حتمی معاہدہ طےکرنے کے لیے ایک طریقہ کار پر اتفاق کیا ہے جس سے مزید تکنیکی مذاکرات کے فوری آغاز کی بنیاد رکھی جائے گی"۔

"برگن سٹاک ریزورٹ میں ہفتے کے بقیہ حصے میں تمام مسائل پر تکنیکی بات چیت جاری رہے گی۔"

لبنان 'ڈی-کنفلیکشن سیل'

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے فریقین، جمہوریہ لبنان اور ثالثین کی مدد سے ایک ڈی کنفلیکشن سیل کے قیام پر اتفاق کیا۔

ایران کے عراقچی نے پیر کو ایک ایکس پوسٹ میں لکھا، لبنان ڈی کنفلیکشن سیل معاہدے کا "پہلا حقیقی امتحان" ہو گا۔

ہرمز کی 'مواصلاتی لائن'

بیان کے مطابق تہران اور واشنگٹن نے "حادثاتی واقعات اور غلط رابطے سے بچنے" کے لیے ایک "مواصلاتی لائن" قائم کی ہے جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔

یہ مواصلاتی لائن 60 دن کی مدت کے لیے نافذ العمل ہے جس کا خاکہ فریقین کی پہلے دستخط کردہ مفاہمتی یادداشت میں بیان کیا گیا ہے۔ اس میں ایران نے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ راہداری کو یقینی بنانے کے لیے "بہترین کوششوں" کا عزم ظاہر کیا تھا۔

ایران نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے لبنان میں اسرائیلی حملوں پر آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی تھی۔

بعض اثاثہ جات جاری کر دیے گئے ہیں

عراقچی نے پیر کے روز ایکس پر لکھا "تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر رعایت دی گئی ہے، ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے، بعض منجمد اثاثہ جات جاری کر دیے گئے ہیں اور ایران کے لیے تعمیرِ نو اور ترقی کا بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔"

پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان میں ایرانی اثاثہ جات جاری کرنے کا ذکر نہیں ہے۔

مفاہمتی یادداشت میں امریکہ ایران کے خلاف "ہر قسم کی پابندیاں ختم کرنے" اور ایران کے "منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثہ جات کو استعمال کے لیے مکمل طور پر دستیاب" کرنے کا عہد کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے عراقچی کے بیان پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

پاکستان اور قطر کا اہم کردار

پاکستان اور قطر کو ایران-امریکہ معاہدے میں ثالث کے طور پر بین الاقوامی سطح پر اہمیت حاصل ہوئی ہے اور دونوں ممالک نے مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

بیان کے مطابق "ثالثی کرنے والے فریقین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش جاری رکھیں گے کہ مذاکرات ایک تعمیری ماحول میں جاری رہیں تاکہ کوئی حتمی معاہدہ طے پا سکے۔"

عراقچی نے اپنی ایکس پوسٹ میں "پاکستان اور قطر کی ثالثی کی انتھک کوششوں" کا اعتراف کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں