جاپان: عالمی سربراہان کے عشائیے کے دوران روسی صدر کے "مَگ" کا قصّہ
کیا روسی صدر ولادی میر پوتین کو تشویش ہے کہ انہیں زہر دیا جا سکتا ہے یا پھر جمعے کی شام (جی – 20) سربراہ اجلاس کے پہلے روز کے اختتام پر عشائیے کے دوران پیش آنے والا واقعہ چائے کے متوالے صدر کی جانب سے محض ان کے شوق کا اظہار تھا؟
روسی صدر پوتین مذکورہ عشائیے کی میز پر اپنے ساتھ چائے کا خصوصی mug لے کر آئے۔ اس منظر نے انٹرنیٹ پر صارفین کی جانب سے اس حد تک سوالات کو جنم دیا کہ کریملن ہاؤس کے ترجمان بھی جواب دینے پر مجبور ہو گئے۔
عشائیے میں شریک روسی صدر سفید رنگ کے مَگ میں چائے پیتے نظر آئے جب کہ اس دوران ان کے اطراف موجود بقیہ سربراہان عمومی کپوں کو استعمال کر رہے تھے۔
Весь мир против нас! Все хотят отравить Путина! Но у него свой стакан с крышечкой! pic.twitter.com/hVzab7pMuC
— Грани.Ру (@GraniTweet) June 28, 2019
ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں صدر پوتین نے دُور سے امریکی ہم منصب ٹرمپ کے لیے اپنا مَگ اونچا کیا۔ دونوں شخصیات کے درمیان میں جاپانی وزیراعظم شنزو ابیے براجمان تھے جن کا ملک اس سال (جی-20) سربراہ اجلاس کا میزبان ہے۔
سوشل میڈیا پر اس منظر سے متعلق تصاویر پھیلنے کے ساتھ ہی بعض صارفین نے سنجیدگی کے ساتھ یہ استفسار کیا کہ آیا روسی صدر کو زہر دینے جانے کا خطرہ ہے۔ تاہم یہ مَگ جس پر روسی فوج کا لوگو موجود ہے ،، بڑی حد تک اُس مَگ سے ملتا جلتا ہے جو پوتین نے گذشتہ ہفتے روسی ٹیلی وژن پر سالانہ پروگرام "ڈائریکٹ لائن" کے دوران استعمال کیا۔
کرملن ہاؤس نے تیزی سے مداخلت کرتے ہوئے اس تنازع کو اختتام تک پہنچایا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ "صدر پوتین اس تھرماس کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں کیوں کہ وہ مسلسل چائے نوش فرماتے ہیں"۔