سعودی عرب کےممتاز عالم دین اور مسجد نبوی کے امام الشیخ علی بن عبدالرحمان الحذیفی اور ان کے صاحب زادے احمد الحذیفی نے گذشتہ روز مسجد نبوی میں نماز تہجد کی امامت کے فرائض انجام دیئے۔ دونوں باپ بیٹے کی مسجد نبوی میں کسی نماز کی امامت دلچسپ اتفاق ہے۔
مسجد نبوی میں آئمہ اور مؤذنین کے انتظامی امور کے ادارے کی طرف سے 'ٹویٹر' پر جاری ایک بیان 22 رمضان المبارک کی رات مسجد نبوی میں نماز تہجد کی امامت کے لیے آئمہ کا شیڈول جاری کیا گیا۔ اس شیڈول میں یکے بعد دیگر دونوں باپ بیٹے کو امامت کے فرائض انجام دینا تھے۔
جدول صلاتيّ التراويح والتهجد بـ #المسجد_الحرام لعام 1442هـ.#عبدالرحمن_السديس#سعود_الشريم#عبدالله_الجهني#ماهر_المعيقلي#بندر_بليلة#ياسر_الدوسري#رمضان#إدارة_شؤون_الأئمة#الإدارة_العامة_لشؤون_الأئمةوالمؤذنين pic.twitter.com/623SqCYUIt
— شؤون الأئمة والمؤذنين (@Emam_moathen) April 11, 2021
پہلی رکعات میں الشیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمان الحذیفی کو امامت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ دوسری اور تیسری تسلیمات میں الشیخ ڈاکٹر خالد بن سلیمان المہنا اور آٰخری تسلیمات اور وتر کے لیے الشیخ الحذیفی کے صاحب زادے الشیخ ڈاکٹر احمد علی الحذیفی کو امامت کی ذمہ داری سونپی گئی۔
علامہ علی الحذیفی اور احمد الحذیفی 25 اور 28 رمضان المبارک کی رات کو بھی مسجد نبوی میں تہجد کی نمازوں کی امامت کریں گے۔ ان نمازوں میں ڈاکٹر خالد بن سلیمان المہنا بھی امامت کے فرائض انجام دیں گے۔
مسجد نبوی کی صدارت عامہ برائے انتظامی امور کی طرف سے احمد الحذیفی کو 1438ھ کو مسجد نبوی میں تراویح کی نماز کی امامت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس کے بعد وہ سنہ 1439ھ، 1440ھ اور 1441ھ کو مسجد قبا سے مسجد نبوی میں امامت کے لیے لایا گیا تھا۔