نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی نے اعتراف کیا ہے کہ نیویارک آمد کی صورت میں ان کے پاس اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔
بدھ کے روز ایکس پلیٹ فارم پر جاری ایک وڈیو کلپ میں ممدانی نے کہا "میری انتظامیہ نے نافذ العمل قانون کے تحت تمام دستیاب راستوں کا جائزہ لیا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ بنیامین نیتن یاہو کی یہاں آمد کی صورت میں کیا نیویارک شہر بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کر سکتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا "یہ بات واضح ہے کہ اس وارنٹ کو نافذ کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی آزاد قانونی اختیار نہیں ہے۔ تاہم وفاقی حکومت یہ اختیار رکھتی ہے... اور میں اس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں شامل ہو اور اس وارنٹ پر عمل درآمد کرائے۔"
یہ وڈیو ممدانی کے اس بیان کے چند دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی انتظامیہ کی قانونی ٹیم کے ساتھ اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ اگر نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تو "مبینہ جنگی جرائم" کے الزام میں ان کی گرفتاری پر عمل درآمد کیسے کیا جائے۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔
ممدانی نے نیتن یاہو کو "غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا ماسٹر مائنڈ" قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے ان کے خلاف جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر مبنی ہیں۔
دوسری طرف اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی دانون نے اس بات پر زور دیا کہ نیویارک شہر کے میئر زهران ممدانی (ڈیموکریٹ) کے پاس آئندہ ستمبر میں شہر کے متوقع دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا "کوئی اختیار نہیں ہے"۔ انہوں نے میئر کی دھمکی کو "محض ایک سیاسی ڈراما" قرار دیا۔
Benjamin Netanyahu is a war criminal. pic.twitter.com/YRezmW6YVx
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) July 22, 2026
منگل کے روز نیوز نیشن سے گفتگو کرتے ہوئے دانون نے کہا کہ ممدانی کے پاس ایسے کسی اقدام پر عمل درآمد کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا فریق نہیں ہے جس نے نومبر 2024 میں غزہ کی پٹی میں جنگ سے متعلق الزامات کے پس منظر میں نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس تنازع میں کودتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ میں موجودگی کے دوران نیتن یاہو کو "کسی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا"۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو امریکی سرزمین کے اندر اس قسم کی کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر کے مطابق تمام تر توجہ ایران کا مقابلہ کرنے پر ہونی چاہیے۔
اسی طرح امریکی حکام نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن بین الاقوامی فوجداری عدالت کو قائم کرنے والے روم معاہدے کا رکن نہیں ہے... اور مقامی حکام کے پاس ملک کا دورہ کرنے والے کسی غیر ملکی سربراہِ حکومت کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف غزہ کی پٹی میں جنگ سے متعلق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے، اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
-
نیویارک کے دورے پر نیتن یاہو کی گرفتاری کی دھمکی پر تنازعہ ، اسرائیل کا ردعمل
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر دانی دانون نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیویارک شہر ...
مشرق وسطی -
'جنگی جرائم' نیتن یاہو کی امریکہ میں گرفتاری کی دھمکی ٹرمپ نے مسترد کردی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بارے میں دوٹوک کہا ہے ...
بين الاقوامى -
"کوہِ کولنگ" میں یورینیم کی افزودگی کے امکان پر اسرائیلی انتباہ... تہران کی تردید
بدھ کے روز جاری ہونے والے اسرائیلی تخمینوں کے مطابق ایران تہران کے جنوب میں نطنز ...
مشرق وسطی