نیویارک آمد کی صورت میں میرے پاس نیتن یاہو کی گرفتاری کا قانونی اختیار نہیں : ممدانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی نے اعتراف کیا ہے کہ نیویارک آمد کی صورت میں ان کے پاس اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔

بدھ کے روز ایکس پلیٹ فارم پر جاری ایک وڈیو کلپ میں ممدانی نے کہا "میری انتظامیہ نے نافذ العمل قانون کے تحت تمام دستیاب راستوں کا جائزہ لیا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ بنیامین نیتن یاہو کی یہاں آمد کی صورت میں کیا نیویارک شہر بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کر سکتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا "یہ بات واضح ہے کہ اس وارنٹ کو نافذ کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی آزاد قانونی اختیار نہیں ہے۔ تاہم وفاقی حکومت یہ اختیار رکھتی ہے... اور میں اس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں شامل ہو اور اس وارنٹ پر عمل درآمد کرائے۔"

یہ وڈیو ممدانی کے اس بیان کے چند دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی انتظامیہ کی قانونی ٹیم کے ساتھ اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ اگر نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں تو "مبینہ جنگی جرائم" کے الزام میں ان کی گرفتاری پر عمل درآمد کیسے کیا جائے۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتائی۔

ممدانی نے نیتن یاہو کو "غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا ماسٹر مائنڈ" قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے ان کے خلاف جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر مبنی ہیں۔

دوسری طرف اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی دانون نے اس بات پر زور دیا کہ نیویارک شہر کے میئر زهران ممدانی (ڈیموکریٹ) کے پاس آئندہ ستمبر میں شہر کے متوقع دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا "کوئی اختیار نہیں ہے"۔ انہوں نے میئر کی دھمکی کو "محض ایک سیاسی ڈراما" قرار دیا۔

منگل کے روز نیوز نیشن سے گفتگو کرتے ہوئے دانون نے کہا کہ ممدانی کے پاس ایسے کسی اقدام پر عمل درآمد کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ امریکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کا فریق نہیں ہے جس نے نومبر 2024 میں غزہ کی پٹی میں جنگ سے متعلق الزامات کے پس منظر میں نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس تنازع میں کودتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ میں موجودگی کے دوران نیتن یاہو کو "کسی صورت گرفتار نہیں کیا جائے گا"۔

ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو امریکی سرزمین کے اندر اس قسم کی کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر کے مطابق تمام تر توجہ ایران کا مقابلہ کرنے پر ہونی چاہیے۔

اسی طرح امریکی حکام نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن بین الاقوامی فوجداری عدالت کو قائم کرنے والے روم معاہدے کا رکن نہیں ہے... اور مقامی حکام کے پاس ملک کا دورہ کرنے والے کسی غیر ملکی سربراہِ حکومت کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف غزہ کی پٹی میں جنگ سے متعلق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے، اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں