.

ریشم، سونے اور چاندی سے خانہ کعبہ کا غلاف ہر سال کیسے بُنا جاتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ریشم، سونے اور چاندی کے دھاگوں سے کعبہ شریف کے غلاف [کسوہ] کی ہر سال سلائی اور کڑھائی کی جاتی ہے۔ مُملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آل سعود کے دور سے ’کسوہ‘ کی تیاری میں سعودی حکومت کی گہری دلچسپی رہی ہے۔ انہوں نے مملکت کے اندر غلاف کی تیاری کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کا حکم دیا جس کے بعد مکہ معظمہ میں غلاف کعبہ کی تیاری شروع ہوئی۔

کسوہ کی مقامی سطح پر تیاری کی کہانی 1346ھ میں مکہ مکرمہ میں وزارت پبلک فنانس کے گھر کے سامنے اجیاد محلے کے ایک نجی گھرسے شروع ہوئی۔ مکہ معظمہ میں غلاف کعبہ کی تیاری کا یہ پہلا سال تھا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ جاری ہے اور ہر آنے والے سال زیادہ اہتمام کے ساتھ غلاف کعبہ تیار کیا جاتا ہے۔ آج غلاف کعبہ کی تیاری میں سالانہ 20 ملین ریال لاگت آتی ہے۔

اس غلاف کا وزن 850 کلو گرام ہے، جسے کپڑے کے 47 ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر ٹکڑا 98 سینٹی میٹر چوڑا اور 14سینٹی میٹر اونچا ہے۔ اسے شاہ عبدالعزیز کمپلیکس میں کسوہ کعبہ کی ذمہ دار جنرل پریذیڈنسی برائے امور حرمین شریفین کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس بار غلاف کعبہ کی تبدیلی کا یکم محرم الحرام 1444ھ کو کیا جا رہا ہے۔

مکہ میں پہلے غلاف کی تیاری

شاہ عبدالعزیز کے بعد ان کے فرزندان نے اہتمام کے ساتھ غلاف کعبہ کی تیاری اور اس کی دیکھ بھال جاری رکھی۔

سنہ 1962ء میں کعبہ شریف کا مکہ میں پہلا غلاف مکمل ہوا۔ نئی فیکٹری میں بُناجانے والا پہلا کسوا تین ماہ میں خاص طور پر اگست 1962ء میں مکمل ہوا۔ اس پرلکھا تھا کہ’ غلاف کعبہ کو مکہ مکرمہ میں بنایا گیا ہے اور اسے بانی مملکت عبدالعزیز آل سعود نے کعبہ شریف کے لیے عطیہ کیا ہے۔ اللہ اسے شرف قبولیت بخشے۔ سنہ 1381ھ‘۔

سنہ 1962ء میں شاہ سعود بن عبدالعزیز نےکسوہ فیکٹری کی تیاری کا حکم دیا اور پھر یہ کام اپنے بھائی شاہ فیصل کو سونپا جنہوں نے وزیر حج و اوقاف حسین عرب کو غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے ایک کمپلیکس کے قیام کا حکم دیا۔ اس کمپلیکس کے لیے جرول کے مقام پر وزارت مالیات کی عمارت سے منسلک عمارت کا انتخاب کیا گیا۔ جرول کے مقام پرشاہ فیصل، شاہ خالد اور شاہ فہد کے دور میں غلاف کعبہ کی تیاری جاری رہی۔ سنہ 1397ھ میں کسوہ کعبہ کو ایک نئی عمارت میں منتقل کیا گیا۔ اس نئی عمارت میں کسوہ کی تیاری کے لیے لگائے گئے کارخانے کو جدید آلات سے آراستہ کیا گیا۔

کعبہ کسوہ فیکٹری میں الیکٹرانک سسٹم، برقی آلات اور مکینیکل آلات کو نئے نظاموں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے اور تبدیل کرنے کے لیے شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کی منظوری جاری کی گئی۔

بانی مملکت شاہ عبدالعزیز آل سعود کے اعزاز میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے منگل 13 شعبان 1439ھ کو غلاف کعبہ فیکٹری کا نام بدل کر کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے غلاف کعبہ رکھنے کی منظوری دی۔

اللہ نے مملکت سعودی عرب کو غلاف کعبہ کی اس صنعت کی پائیداری اور ترقی سے نوازا ہے۔ مملکت نے بھی غلاف کعبہ کی تیاری میں تمام جدید تکنیکی ذرائع کو متعارف کرایا ہے۔ کسوہ کی تیاری کے لیے جدید ترین مشینیں استعمال کی جاتی ہیں۔

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور میں اس حوالے سے جو اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے وہ مقامی کارخانے ہی میں غلاف کے کپڑے کی تیاری ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے غلاف کعبہ کے لیے "تاجیما" مشین اور جیکورڈ مشین فراہم کی۔ یہ مشینیں غلاف کعبہ پر آیات اور نقوش کی تیاری کے لیے کام کرتی ہیں۔

یہ مشینیں تسبیحات، سنہری لالٹینوں اور الفاظ سے کندہ کعبہ کےغلاف تیار کرتی ہیں۔ ان کی مدد سے "يا الله، سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم، ياديّان، ويامنّان اورلا إله إلا الله محمد رسول الله" جیسی عبارات تحریر کی جاتی ہیں۔ غلاف کعبہ کی تیاری میں ریشم کے 9 ہزار سے زائد دھاگے استعمال ہوتے ہیں اور کسوہ کو بنانے میں 6 سے 8 ماہ کا وقت لگتا ہے۔ غلاف کعبہ کی تیاری میں 200 سے زاید ماہرین اور کاری گر کام کرتے ہیں۔

سونے کے تار

غلاف کعبہ پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے کڑھائی کی جاتی ہے، جہاں کعبہ پر سونے کے ٹکڑوں کی تعداد 54) ٹکڑوں تک ہے، کمپلیکس میں "سونے اور چاندی کی کڑھائی" کہلانے والے خصوصی حصے میں استعمال کرتے ہوئے 120 کلو گرام سونا استعمال ہوتا ہے۔100 کلو گرام پینٹ شدہ چاندی استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غلاف کعبہ کے کپڑے میں 760 کلو گرام خالص ریشم استعمال کیا جاتا ہے۔

غلاف کعبہ کے مراحل کئی تکنیکی اور آپریشنل حصوں سے گزرتے ہیں اور اس کا آغازکپڑے کو رنگنے[خضاب لگانے] کے مرحلے سے ہوتا ہے، جو کہ فیکٹری میں غلاف کی تیاری کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ دنیا میں خالص قدرتی ریشم کی اقسام مہیا کی جاتی ہیں اور اس کے بعد ان پر خودکار بُنائی کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں