دنیا کے گرد تنہا چکر؛ کم عمر ترین پائلٹ نے بہن کا ریکارڈ بھی توڑ دیا

ردرفورڈ نے جب اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اس وقت ان کی عمر 17 برس نہیں ہوئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بیلجیئم اور برطانیہ کی شہریت رکھنے والے 17 سالہ میک ردرفورڈ ایک چھوٹے طیارے پر تنہا دنیا کا چکر مکمل کر کے گذشتہ روز بلغاریہ میں لینڈ کر گئے۔

جب ان کے طیارے نے بلغاریہ میں لینڈ کیا تو ر فورڈ تنہا کا دنیا چکر لگانے والے کم عمر ترین شخص بن گئے۔ یہی وہ ملک ہے جہاں سے پانچ ماہ قبل انہوں نے اپنے سفر کا آغاز تھا۔

ابتدا میں اندازہ تو یہ لگایا گیا تھا کہ وہ اس چھوٹے طیارے میں تین ماہ میں دنیا کے گرد تنہا چکر لگا کر واپس پہنچ جائے ہیں لیکن غیر متوقع حالات اور خراب موسم کے سبب ان کے سفر کا دورانیہ طویل ہو گیا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق ردر فورڈ کے اس سفر کی تکمیل کے ساتھ وہ دو گنیز ورلڈ ریکارڈ کے بھی حق دار ہو گئے ہیں جن میں ایک تو ان کا دنیا کے گرد تنہا چکر لگانے والا سب سے کم عمر ترین پائلٹ ہونا ہے جب کہ ان کا دوسرا ریکارڈ ایک مائیکرو لائٹ طیارے میں یہ سفر کرنا ہے۔

قبل ازیں برطانیہ کے 18 سالہ ٹریویس لڈلو کے پاس کم ترین عمر میں تنہا دنیا کے گرد چکر لگانے کا ریکارڈ تھا۔ انہوں نے گزشتہ برس ہی یہ ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔

ردر فورڈ نے جب رواں برس مارچ میں اپنے سفر کا آغاز کیا تو ان کی عمر 16 برس اور کچھ ماہ تھی۔ وہ اس سفر کے دوران 17 برس کے ہوئے ہیں۔

ردرفورڈ سے قبل ان کی بہن زارا نے دنیا کے گرد تنہا الٹرا لائیٹ طیارے میں دنیا کے گرد چکر لگانے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

ان کی بہن کی عمر 19 برس سے زائد ہے اور انہوں نے رواں برس جنوری میں ہی یہ ریکارڈ بنایا تھا البتہ ردر فورڈ نے مائیکرو لائٹ طیارے میں دنیا کے گرد چکر لگایا ہے۔


انہوں نے جس مائیکرو لائیٹ طیارے میں دنیا کے گرد چکر لگایا ہے اس کی رفتار 300 کلومیٹر فی گھنٹے تک ہے۔

عمومی طور پر اس طیارے میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے البتہ ردرفورڈ کے طیارے میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور اس میں پچھلی نشست کی جگہ تیل کا ایک اضافی ٹینک لگایا گیا تھا تاکہ زیادہ وقت تک طیارے کو فضا میں رکھنے کے لیے تیل دستیاب ہو۔

بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ کے مغرب میں ہوائی اڈے سے ردرفورڈ نے رواں برس 23 مارچ کو دنیا کے گرد چکر لگانے کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ اس سفر میں وہ پانچ بر اعظموں کے 52 ممالک سے گزرے ۔

اس سفر میں وہ افریقہ سے مشرقیِ وسطیٰ کے ممالک، بھارت، چین، جنوبی کوریا اور جاپان سے گزر کر بلغاریہ واپس پہنچے۔

ردر فورڈ ہوا بازوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے پاس یہ بھی اعزاز ہے کہ انہوں نے 15 سال کی عمر میں ہی پائلٹ ہونے کا لائسنس حاصل کر لیا تھا۔

ان کو 2020 میں لائسنس جاری کیا گیا تھا جس کے ساتھ ہی وہ دنیا کے کم عمر ترین پائلٹ بن گئے تھے۔

ردر فورڈ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کے اس سفر کی کامیابی نوجوانوں کو اپنے خواب پورےکرنے کی ترغیب دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں