جمہوریہ ترکیہ کے صدررجب طیب ایردوان نے اتوار کے روزقطرمیں فٹ بال عالمی کپ کی افتتاحی تقریب کے موقع پراپنے مصری ہم منصب عبدالفتاح السیسی سے مصافحہ کیا ہے۔
قاہرہ کے ساتھ انقرہ کے تعلقات گذشتہ قریباً ایک عشرے سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔دونوں ملکوں میں دوطرفہ تعلقات اس وقت کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے جب مصر کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل عبدالفتاح السیسی نے 2013 میں الاخوان المسلمون کے منتخب صدرڈاکٹرمحمدمرسی کی حکومت کو معزول کرنے کی قیادت کی تھی اور ان سمیت الاخوان کے قائدین کو پابندسلاسل کردیا تھا اور پھر خود برسراقتدارآگئے تھے۔
ترک صدر نے ڈاکٹرمرسی مرحوم اور ان کی جماعت کی بھرپورحمایت کی تھی اور مصری حکومت کے ساتھ تعلقات منقطع کرلیے تھے۔انھوں نے ڈاکٹرمرسی اورالاخوان کے قائدین اور کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن اورانتقامی قانونی کارروائیوں کی شدید مذمت کی تھی۔
ترکی نے گذشتہ سال خطے میں امریکا کے اتحادی عرب ممالک کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے پر زوردیاتھا اور ان کے ساتھ نیا سلسلہ جنبانی شروع کیا تھا۔اس نے مصر کے ساتھ بھی گذشتہ سال اعلیٰ سطح پرسیاسی مشاورت کا آغازکیا تھا۔