اسرائیل کی جانب سے امریکہ پر نگرانی وجاسوسی میں اضافہ: پینٹاگون رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اگرچہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان قریبی اتحاد موجود ہے، تاہم باخبر ذرائع کے مطابق پینٹاگون نے اسرائیل کی جانب سے امریکہ پر جاسوسی کے خطرے کی سطح کو انتہائی درجے تک بڑھا دیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی انٹیلی جنس ایجنسی سے وابستہ دو موجودہ اور ایک سابق اہلکار کے مطابق حالیہ ہفتوں میں اس ادارے نے اپنے ''انسدادِ جاسوسی خطرے'' کی درجہ بندی میں اسرائیل کو ''انتہائی حساس/کریٹیکل'' سطح پر رکھ دیا ہے۔ یہ بات امریکی نشریاتی ادارے ''این بی سی نیوز'' نے ہفتے کے روز رپورٹ کی۔

رپورٹ کے مطابق ایک داخلی میمورنڈم میں جسے ایک موجودہ اہلکار نے دیکھا، اسرائیل سے متعلق خطرے کی سطح کو ''کریٹیکل ''قرار دیا گیا ہے۔

یہ درجہ بندی اس خدشے پر مبنی ہے کہ اسرائیل مبینہ طور پر امریکی اعلیٰ حکام کی نگرانی کی کوششیں کر رہا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندرونی فیصلوں اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات سے متعلق پالیسیوں کی معلومات حاصل کی جا سکیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس خدشے کی بنیاد چند ایسے واقعات پر رکھی گئی ہے، جنہوں نے امریکی حکام کے تحفظات میں اضافہ کیا ہے۔

مزید احتیاط

عملی طور پر اس انتباہی سطح میں اضافے کے نتیجے میں امریکی حکام نے اسرائیل کے دوروں یا اسرائیلی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران مزید احتیاط برتنی شروع کر دی ہے۔

تاہم اس اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان روزمرہ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر کوئی اثر نہیں ڈالا، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں۔

ایک اہلکار کے مطابق امریکہ پہلے ہی اسرائیل کے دوروں کے دوران اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرتا ہے، کیونکہ اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی معلومات اکٹھا کرنے کی صلاحیت اور سرگرمیوں کو انتہائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ امریکی حکام عام طور پر اسرائیل کے دوروں کے دوران خصوصی حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہیں، جیسے عارضی موبائل فونز اور آلات کا استعمال اور ہوٹل کے کمروں میں آزادانہ گفتگو سے گریز کرنا۔

اسرائیل کی تردید

اس کے برعکس واشنگٹن میں موجود اسرائیلی سفارتخانے کے ترجمان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب امریکہ کے خلاف خصوصاً امریکی حکومتی اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کی جاسوسی نہیں کرتا۔

ان کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس سرگرمیاں صرف اپنے دشمنوں کے خلاف ہوتی ہیں، نہ کہ اپنے اتحادیوں کے خلاف ہے۔

دوسری جانب پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ''یہ پوری کہانی غلط ہے اور ایسے ذرائع پر مبنی ہے جنہیں صورتحال کا درست علم نہیں ہے ''۔

یہ نیا امریکی جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے ساتھ جاری جنگ کے مستقبل اور حکمتِ عملی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان لبنان اور ایران کے معاملات پر کشیدگی بھی رپورٹ ہو رہی ہے۔

جنوبی لبنان کے شہرالنبطية میں اسرائیلی گاڑی پر حملہ [رائیٹرز فائل فوٹو]
جنوبی لبنان کے شہرالنبطية میں اسرائیلی گاڑی پر حملہ [رائیٹرز فائل فوٹو]

ادھر اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا اور اس نے دوبارہ فوجی کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں