بیلجیئم کو ہرانے والی مراکشی ٹیم کے سٹار اشرف حکیمی والدین کی عزت‘ کا آئیکون

اشرف حکیمی 4 نومبر 1998 کو میڈرڈ میں مراکشی نژاد خاندان میں پیدا ہوئے، قطر ورلڈ کپ میں سٹار بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

قطر میں جاری فیفا ورلڈ کپ میں بیلجیم کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بعد مراکش کی قومی ٹیم کے سٹار اشرف حکیمی کی اپنی والدہ کے ساتھ والہانہ محبت اور عقیدت کے اظہار کی تصاویر کے سبب عرب عوام اور سوشل میڈیا پر متحرک افراد کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

مراکش کی جانب سے بیلجیم کو تاریخی شکست کے بعد سٹار اشرف حکیمی کی وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ فتح کے بعد اپنی ماں کو گلے لگاتے اور چومتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ایک تصویر میں وہ اپنی ماں کو اپنی قمیض دے رہے ہیں۔ پیرس سینٹ جرمین کے کھلاڑی اشرف حکیمی نے ان تصاویر کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا اور ساتھ لکھا "ماں میں تم سے پیار کرتا ہوں"۔

تصاویر پر سوشل میڈیا پر تعریفی تبصروں کی بھرمار ہوگئی۔ ٹوئٹر پر فیفا ورلڈ کپ اکاؤنٹ نے تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیلجیئم کے خلاف تاریخی فتح کے بعد اشرف، ان کی ماں، بیٹی اور وطن کی محبت سے سرشار ایک مراکشی بوسہ۔ اکاؤنٹ پر مزید کہا گیا اشرف حکیمی اور ان کی والدہ آج فوٹوگرافروں کیلئے سپر سٹار ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی مراکش کے فٹ بال کھلاڑی اشرف حکیمی پر تبصرہ کیا اور کہا ہم "اپنے خاندان کے ساتھ انتہائی مہربان" حکیمی کی فٹ بال کی شروعات اور اپنی والدہ کے ساتھ ان کے زبردست لگاؤ کا راز جاننے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

اشرف حکیمی 4 نومبر 1998 کو میڈرڈ سپین میں مراکشی نژاد خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق ’’وادی زم ‘‘ سے ہے اور والدہ کا تعلق شمالی مراکش کے شہر ’’قصر الکبیر" سے ہے۔

اشرف حکیمی کا بچپن

حکیمی نے نظر انداز کئے جانے والے کھلاڑی سے لیکر عالمی فٹ بال کے آسمان پر طلوع ہونے والے ستارے کے سفر طے کیا۔

حکیمی نے کئی مواقع پر یہ بیان کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا کہ ان کے والد چھابڑی فروش تھے اور ان کی ماں نے ان کیلئے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ وہ اپنی پوری کوشش کرتے رہے اور خود کو فٹ بال کھیلنے کے قابل بنانے کیلئے بہت کچھ قربان کرتے رہے۔ مراکشی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق انہوں نے اپنے کیریئر کی کامیابی کو اپنی والدہ کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

ایک موقع پر جب مصر میں انہیں "افریقہ کے بہترین کھلاڑی" کا اعزاز حاصل ہوا۔ حکیمی اور ان کی والدہ نے مصری ٹی وی کو مختصر انٹرویو دیا تھا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے اپنے اور ماں کے درمیان محبت اور لگاؤ سے متعلق ہسپانوی زبان میں بات کی تھی۔حکیمی نے کہا کہ والدہ نے ہمیشہ میرا سہارا لیا ہے اور وہ بچپن سے ہی میرے ساتھ رہتی ہیں۔ میں اپنے کھیل کی جگہ انہیں ساتھ لے جانے کو ترجیح دیتا ہوں۔ وہ بہت تھکی ہوئی ہیں اور ظاہر ہے اب انہیں کچھ تفریح کے مواقع ملنا چاہیں۔

سعيدة والدة أشرف حكيمي
سعيدة والدة أشرف حكيمي

اشرف حکیمی کی ماں نے کہا مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے اور اس کی کامیابی پر مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا میں میچوں کے دوران کسی قسم کا تناؤ محسوس نہیں کرتیں کیونکہ مجھے اپنے بیٹے پر بھروسہ ہے۔ پریکٹس کیمپ لگنے اور میچ سے قبل اور بعد میں ہر وقت بیٹے سے رابطے میں رہتی ہوں۔ چاہتی ہوں خدا اس کی ہمیشہ حفاظت کرتا رہے۔

حکیمی نے بین الاقوامی ٹیموں انٹر میلان، بوروسیا ڈورٹمنڈ اور رائل کلب ریئل میڈرڈ کے ساتھ کھیل رکھا ہے۔ اشرف حکیمی نے اپنے فٹ بال ڈیبیو میں رائٹ بیک اور سنٹرل ڈیفنس کے طور پر کھیلا تھا۔ مراکش کے عرب کھلاڑی نے ہسپانوی کلب ریئل میڈرڈ میں شمولیت اختیار کی اور رائل ریئل میڈرڈ سکول میں اپنی تشکیل کے باوجود مراکش کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کو ترجیح دی تھی۔

یورپی چیمپئنز لیگ جیتنے والے پہلے عرب کھلاڑی

اشرف کا پہلا میچ 2016 میں رائل کلب کے ساتھ ایک دوستانہ میچ میں تھا جس نے انہیں کیپیٹل کلب پیرس سینٹ جرمین کے ساتھ اکٹھا کیا۔ وہ رئیل میڈرڈ کے ساتھ کئی ٹائٹل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے 2018 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی مراکش کی قومی ٹیم میں بھی شرکت کی تھی۔ حکیمی نے بہت سے ایوارڈز جیتے جس کے بعد ان کا نام مراکش کی عوام میں گونجنے لگا۔

فرانسیسی پیرس سینٹ جرمین ٹیم میں ان کے ساتھی کائیلین ایمباپے نے انہیں "دنیا کا بہترین رائٹ بیک" قرار دیا تھا۔ اپنی ذہانت اور بڑے ستاروں سے قربت کے باوجود حکیمی معمول کی زندگی کو ترجیح دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ صحافیوں کے ساتھ اپنے انٹرویوز میں اپنی والدہ اور اپنی والد کے ساتھ وابستگی پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں