متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے تو سوڈان اور مراکش نے بعد بھی ان میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے توقع کی تھی کہ سلطنت عمان "ابراہم ایکارڈز" میں شامل ہونے والا اگلا ملک ہو گا۔
سلطنت آف عمان نے پچھلی صدی کی ستر کی دہائی سے تل ابیب کے ساتھ نچلے درجے کے تعلقات برقرار رکھے ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے حیرت انگیز طور پر 2018 میں مسقط کا دورہ بھی کیا تھا۔ نیتن یاھو نے مرحوم سلطان قابوس بن سعید اور عمان کے دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی۔
اسرائیلی وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے امور اور امن عمل کے شعبہ کے سربراہ ایلیو بینجمن کے ایک بیان میں بھی ان معلومات کو دہرایا گیا جن نے کہا گیا ہے کہ "سلطنت آف عمان اگلا ملک ہو سکتا ہے جو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کا اعلان کرے گا۔ اس وقت عمان نے کہا تھا کہ 2020 میں طے پانے والے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم عمانی شوریٰ کونسل کے ایک فیصلے نے عبرانی ریاست کے سخت بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات کے قیام کو جرم قرار دے کر حیران کر دیا۔ حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان سرکاری دوروں کے تحت تل ابیب کی جانب سے شہری ہوا بازی کو محفوظ بنانے کی منظوری حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
عمان کے مفتی اعظم کا موقف کیا ہے؟
شوریٰ کے مطالبے پر عمانی اخبارات کے ملے جلے رد عمل کے باوجود عمان کے مفتی اعظم اور اس کے وزیر خارجہ نے یقینی طور پر اس فیصلے کی حمایت کی۔ مفتی احمد بن حمد الخلیلی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہم صیہونی ریاست کے تجارتی اور دیگر شعبوں میں مکمل بائیکاٹ کو سخت کرنے کے منصوبے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، جس کی وجہ فلسطینی قوم کے حقوق سے لاتعلقی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی فیصلہ ہے جو مسلمانوں کے درمیان لازمی اخوت کا حصہ ہے۔
سلطنت آف عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے اسرائیل کی طرف پل تعمیر کرنے کے بدلے میں فلسطینی کاز کے منصفانہ حل کی شرط پر کاربند رہنے پر زور دیا۔
فرانسیسی اخبار "لی فیگارو" نے ان کے بیانات کا حوالہ دیا کہ "عمان پہلا خلیجی ملک ہے جس نے 1979 میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کی حمایت کی تھی"۔ اخبار نے اس بات پر زور دیا کہ مسقط ابراہیمی معاہدے میں شامل نہیں ہو گا، کیونکہ عمان ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو فلسطینی عوام کی حمایت کرتے ہیں۔"
فلسطینی مزاحمتی تحریک "حماس" نے اس موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینی عوام اور ان کے منصفانہ مقصد کی حمایت میں سلطنت کے تاریخی موقف کی صداقت کا اظہار ہے۔"
تاہم اسرائیلی ویب سائٹس نے اس فیصلے کے ساتھ اس کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے صرف ان چیزوں کا ذکر کیا جن کا تعلق عمان کی فضائی حدود کے استعمال سے ہے۔ "ٹائمز آف اسرائیل" ویب سائٹ نے کہا کہ اسرائیلی پروازوں کو زیادہ طویل راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ یہ فیصلہ خلیجی ریاست کی فضائی حدود پر اسرائیلی شہری ہوا بازی کو محفوظ بنانے میں کچھ پابندیاں اٹھانے کے امکان کے بارے میں کسی بھی قسم کی قیاس آرائیوں کو ختم کر سکتا ہے۔
ویب گاہ نے مزید بتایا کہ "بائیکاٹ کا تنازعہ مسقط سے ملک میں شہری پروازوں کے گذرنے کی اجازت دینے کے لیے اسرائیلی کوششوں سے منسلک ہے۔"
حالیہ مہینوں میں اسرائیل نے سلطنت عمان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اسرائیلی ایئر لائنز کو مشرق بعید تک جانے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے۔
اسرائیلی بائیکاٹ میں کھیل، معیشت اور ثقافت بھی شامل
گذشتہ پیر کو شوریٰ کونسل نے اسرائیل کے بائیکاٹ کے آرٹیکل 1میں ترمیم کے مسودے کو قانون سازی اور قانونی کمیٹی کو بھیجنے پر اتفاق کیا تاکہ اس تجویز پر بحث کرنے اور اسے منظور یا مسترد کرنے سے پہلے رائے کا اظہار کیا جا سکے۔
تفصیل کے مطابق عمانی خبر رساں ایجنسی "واف" نے بتایا کہ منتخب قانون ساز ادارے نے قانونی پہلوؤں کو پورا کرنے کے لیے رائل فرمان نمبر 72/9 کے ذریعے جاری کردہ قانون بائیکاٹ اسرائیل کے آرٹیکل 1 میں ترمیم کرنے والے ایک مسودہ کو قانون سازی اور قانونی کمیٹی کو بھیجا ہے۔ "
شوریٰ کونسل کے ڈپٹی اسپیکر یعقوب الحارثی نے کہا کہ مجوزہ ترمیم "آرٹیکل 1 میں طے شدہ بائیکاٹ کے دائرہ کار کو وسیع کرتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کونسل کے اراکین معیشت، کھیل یا ثقافتی تعلقات کا بھی بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قانون اپنی موجودہ شکل میں صہیونی ریاست کے ساتھ معاملہ کرنے کی ممانعت کرتا ہے چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی ہو۔جیسا کہ مذکورہ قانون کا پہلا آرٹیکل یہ بتاتا ہے کہ یہ ہر فطری یا قانونی شخص کے لیے ذاتی طور پر ممنوع ہے۔