با خبر ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ثالثوں نے 10 روزہ عارضی جنگ بندی کا ایک نیا مسودہ پیش کیا ہے۔ قطر، مصر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالثوں کی طرف سے پیش کی جانے والی اس تجویز میں دو بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکراتی راستے پر ڈالا جا سکے اور ان کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کو بچایا جا سکے۔ ایک یہ کہ تمام جنگی کارروائیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اور دوسرا یہ کہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولا جائے۔ تجویز میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کو مکمل طور پر کھولا جائے تاکہ عمانی پانیوں کے راستے جنوبی کوریڈور کو ایرانی حملوں سے محفوظ بنایا جا سکے، جبکہ ایرانی پانیوں کے راستے شمالی کوریڈور امریکی بحری ناکہ بندی سے آزاد ہو۔
دوسری جانب دو با خبر ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ یہ تجویز دراصل تہران کی طرف سے دی گئی ہے، جسے اب ثالثوں کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ ایرانی اقدام اس سخت عجلت اور دباؤ کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا تہران کو امریکی حملوں میں اضافے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کے خلاف کسی بھی بڑی اور وسیع محاذ آرائی کے امکان کی وجہ سے ہے۔ اس دس روزہ جنگ بندی کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت اور جہاز رانی سے متعلقہ بحران کے حل کے لیے فضا ہموار کرنا ہے، جو اصل میں وہ بنیادی تنازع ہے جس کی وجہ سے پچھلے ماہ دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت ناکام ہو گئی تھی۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن واشنگٹن کا یہ اصرار ہے کہ جنگ بندی کی مدت طویل ہونی چاہیے اور اس کے نافذ العمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز میں بحری آزادی سے متعلق کچھ ابتدائی اور واضح مفاہمتیں طے پائیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ اعلیٰ عہدیدار اس ایرانی پیشکش کو نا مناسب اور ناقابلِ عمل قرار دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں ثالث عمان کے دارالحکومت مسقط میں جولائی کے وسط میں ہونے والی سابقہ ملاقاتوں کی بنیاد پر طویل مدتی انتظامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایک آپشن یہ بھی زیرِ غور ہے کہ ایران کو بحری سکیورٹی خدمات کے بدلے معقول فیس وصول کرنے کی اجازت دی جائے یا پھر ان رقوم کو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے تعاون سے چلنے والے ایک مشترکہ فنڈ میں جمع کیا جائے۔
ادھر اردن میں ہونے والے ایرانی حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن نے فی الحال اس سفارتی عمل سے عارضی طور پر قدم پیچھے ہٹا لیے ہیں۔ ایک اعلیٰ سطحی امریکی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بات چیت کا سلسلہ تو اپنی جگہ جاری ہے، مگر صدر ٹرمپ اس وقت اپنی پوری توجہ اس بات پر مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ ایران کو معاہدے کی خلاف ورزیوں، مسلسل تخریب کاری اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی بھاری قیمت چکائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک صدر کوئی نیا حکم جاری نہیں کرتے، اس وقت تک امریکی افواج کے تباہ کن اور تلافی آمیز حملے جاری رہیں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ ثالث دونوں ممالک کے درمیان مزید خطرناک کشیدگی کو روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مؤمنی نے اسلام آباد کا دورہ کرتے ہوئے پاکستان فوج کے سربراہ عاصم منير اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، تاکہ اس بحران کے حل میں ثالثی کے کردار کو آگے بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ 8 جولائی کو تجارتی بحری جہاز پر حملے کے بعد سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان تمام سابقہ معاہدے ختم ہو چکے ہیں اور امریکی سینٹ کام پہلے ہی تصدیق کر چکی ہے ہے کہ اردن میں پیش آنے والے حملوں میں امریکی جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
-
ایران سے کشیدگی میں اضافے پر امریکا کا اپنے شہریوں کے لیے عالمی سفری انتباہ
امریکا نے پیر کے روز ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں ...
بين الاقوامى -
ایران نے ہزاروں یورینیم افزودگی کے سینٹری فیوجز زیرِ زمین سرنگوں میں منتقل کر دیے
اسرائیلی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ ایران نے گزشتہ سال خزاں کے موسم میں یورینیم کی ...
بين الاقوامى -
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کی تیاری پر پاکستان اور ایران کے درمیان تبادلہ خیال
العربية/الحدث کے ذرائع کے مطابق منگل کے روز پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منير نے ...
مشرق وسطی