سعودی عرب میں بچی دو ماہ سے لاپتا، ماں کا غم والم سے لبریز بیان
بیٹی کو ذہنی اور نفسیاتی عارضہ لاحق ہے، تلاش کی کوششیں تیزکی جائیں: گم ہونے والی لینا محمد کی ماں کی اپیل
سعودی عرب میں ایک بچی لینامحمد کو گم ہوئے دو ماہ بیت گئے ہیں مگر اس کاکوئی اتاپتانہیں چل سکا۔بچی کی ماں نےبیٹی کی جدائی پر اپنے درد کا اظہار کیا ہے۔ درد و الم سے بھرے الفاظ میں ماں نے اپنا دکھ بیان کیا اور اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
درد اور دل کی جلن سے لبریز الفاظ میں لینامحمد کی والدہ نے اپنی بیٹی کی جدائی پر اپنے درد کا اظہار کیا جو دو ماہ قبل خمیس مشیط میں لاپتاہو گئی تھی جس کا اب تک کوئی پتا نہیں چل سکا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے انٹرویو میں بچی کی والدہ نے کہا کہ میں نے ذرائع ابلاغ کا اس وقت تک سہارا نہیں لیا جب تک دیگر ذرائع کم نہ پڑ گئے اور تلاش کی دیگر تمام کوششیں ناکام ہوتی دکھائی نہ دیں۔
بچی کو ذہنی عارضہ ہے
لینا محمد کی ماں نے کہا کہ سیکیورٹی والوں نے اسکول کے اہلکاروں، والدین اور رشتہ داروں کی مدد سے اسے ڈھونڈنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔تاہم اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
ماں نے اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وہ اپنی بیٹی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی اور اس کی یاد میں ایک خوف کی زندگی بسر کر رہی ہوں۔انھوں نے بتایاکہ میری بیٹی ذہنی نشوونما نہیں ہوسکی تھی، اسی ذہنی عارضے کی وجہ سے میں ہی بیٹی کو کھانا کھلاتی اور لباس پہناتی تھی۔
والدہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے تمام نفسیاتی، صحت اور جسمانی علاج اور دیکھ بھال کر رہی تھی۔ بچی کو جسمانی مسائل بھی تھے اور اس کی ایک آنکھ میں چوٹ بھی لگی تھی۔
گم شدگی کی تفصیل
لینا کی والدہ نے بیٹی کے لاپتا ہونے کے دن کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ بچی اسکول میں اپنا امتحان دینے گئی تھی۔ جب طالب علم وہاں سے چلے گئے تو میں اسے لینے پہنچی اور وہ وہاں موجود نہ ہونے پر حیران رہ گئی۔ بیٹی کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
والدہ نے آخری دنوں کے دوران لینا کی حالت بیان کی اور کہا وہ کام پر نظم و ضبط نہ رکھنے کی وجہ سے پریشانی اور ڈپریشن کا شکار تھی، اس کی ذہنی عمر اس کی تاریخی عمر سے پیچھے تھی۔ اس کی تاریخی عمر 13 سال تھی اور اس کے دماغ کی عمر 7 سال تھی۔ بیٹی کو گفتگو کرنے میں بھی مسئلہ درپیش ہوتا تھا۔
خیال رہے بچی کے غائب ہونے کے بعد خاندان سخت نفسیاتی کیفیت سے دوچار ہے۔