اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے خالی ''تجرباتی سکیورٹی زونز'' کے قیام سے متعلق جاری گفتگو کے دوران امریکا میں اسرائیلی سفیر یحیئیل لائٹر نے کہا ہے کہ ان علاقوں میں لبنانی فوج کو مکمل اور خصوصی کنٹرول حاصل ہوگا۔
انہوں نے بدھ کی شام صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی افواج حزب اللہ کے ارکان کو دریائے لیتانی کے شمال میں منتقل ہونے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کریں گی۔
لائٹر کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ کو غیر مؤثر نہ بنا دیا جائے۔ ان کے بقول ہم اس مقصد کے حصول کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیلی سفیر یحیئیل لائٹر نے خبردار کیا کہ اگر حزب اللہ جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے یا اسے ناکام بنانے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے نتائج اسی کو بھگتنا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ثالثی میں دو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ ایران کو اس معاملے سے باہر رکھا جائے۔
لائٹر نے بدھ کی شام اعلان کیے گئے جنگ بندی معاہدے کو'' نسبتاً غیر معمولی'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات کا اگلا دور بھی سفیروں کی سطح پر ہونے کا امکان ہے، تاہم دونوں فریق اعلیٰ قیادت کی سطح پر ملاقات کے انعقاد کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ کو ''عاشقوں'' سے تشبیہ
امریکا میں اسرائیل کے سفیر یحیئیل لائٹر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نتن یاہو کے درمیان اختلافات کی خبروں کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا ان معاملات کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا:ان دونوں کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو میں سے ایک جملہ نکال کر اسے ان کے تعلقات کی مکمل عکاسی قرار دینا غلط ہے۔ عاشق بھی کبھی کبھار آپس میں جھگڑ لیتے ہیں۔
لائٹر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حالیہ دنوں میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کچھ تلخی پیدا ہوئی تھی۔ ان کے بقول شاید اس ہفتے ان کے درمیان ایک معمولی تکرار ہوئی ہو اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب لبنان اور اسرائیل نے واشنگٹن میں دو روزہ براہِ راست مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر عمل درآمد کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت حزب اللہ مکمل فائر بندی کرے گی اور جنوبی لبنان سے اپنے تمام عناصر واپس ہٹائے گی۔
یہ پیش رفت ان خبروں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چند روز قبل ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان ایک سخت اور ناراضگی سے بھرپور فون کال ہوئی تھی، جس کی وجہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (الضاحیہ) کو نشانہ بنانے کے اسرائیلی اشارے تھے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو وہ اس کا جواب دے گا۔ تہران نے اس ہفتے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی کشیدگی بڑھانے کی دھمکیوں کے باعث وہ امریکا کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات میں اپنی شرکت پر نظرثانی کر سکتا ہے۔