"فیلبی " کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عالمی سیاحوں کی ٹیم سعودی صحراؤں کی سیر پر

برطانوی مہم جو کی قیادت میں ٹیم اونٹوں پر 3 ہفتوں میں صحرا کے 13 سو کلومیٹر کا سفر کر ے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

برطانوی مہم جو مارک ایونز اور ان کی ٹیم نے معروف سیاح ’’ عبد اللہ فیلبی‘‘ کے نقش پر چلتے ہوئے سعودی عرب کے صحرا کے سفر کا آغاز کردیا۔ اس ٹیم میں سعودی سیاح عبداللہ فیلبی کی پوتی ریم فیلبی، برطانوی لاجسٹک ماہر ایلن موریسی اور سوئس فوٹوگرافر اینا ماریا پیلافتشی شامل ہیں۔

اس سفر کا مقصد جزیرہ نما عرب کے دل کے اس سفر کی پیروی کرنا ہے جو اس سے قبل 106 سال قبل سیاح عبد اللہ فیلبی نے بھی کیا تھا۔ مہم جو فیلبی نے صحراؤں کو ڈھونڈنے کا اپنا تاریخی سفر 1917 میں کیا تھا۔

سیاحو ں کی ٹیم اب اپنا یہ سفر خاص طور پر وادی حنیفہ کے الطریف محلے سے شروع کرے گی۔ فیلبی کے پیروکار مسافر درب المنجور جائیں گے، پھر جبل معانیق پہنچیں گے، دلقان سے حدبا قذلہ تک محو سفر رہیں گے اور پھر قویعیہ اور وادی السراح پہنچ جائیں گے۔ ان کا اونٹوں پر یہ سفر ایک ہفتہ سے زیادہ وقت لے لے گا۔ اس دوران ناہموار ڈھلوانوں، پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان اپنا سفر مکمل کرنے کے لیے کرتے ہوئے یہ جزیرہ نما عرب کی سرزمین اور اس کی مشکلات میں سے گزرتے ہوئے یہ سیاح طائف گورنری میں ’’ شبرا محل ‘‘ پہنچ جائیں گے۔

اس کے بعد ٹیم پہاڑوں اور وادیوں کی بلندیوں سے جدہ "نصف ہاؤس" تک اونٹ کے ذریعے اپنی آخری چہل قدمی مکمل کرے گی، سفر کے آ خر میں سینکڑوں کلومیٹر کی مسافت "تاریخی جدہ" میں گزرے گی۔ جزیرہ نما عرب کے مشرق سے مغرب تک یہ سفر لگ بھگ 13 سو کلومیٹر پر محیط ہوگا۔ سفر کا مقصد صحرا کو پہچاننا اور اس کا سائنسی ڈیٹا اکٹھا کرنا بھی ہے۔

صحراؤں میں تین ہفتے

یہ ٹیم جو صحراؤں میں 3 ہفتے گزارے گی اس کی قیادت برطانوی مہم جو مارک ایونز کر رہے ہیں۔ سفر آج پیر کو الطریف محلے سے شروع ہو رہا ہے۔ سیاحوں کی ٹیم ذاتی سامان، کھانے پینے کی اشیا کی اشیا بھی ساتھ رکھے گی۔ سخت سردی میں اونٹوں پر یہ سفر تاریخی ہوگا۔

یہ سفر سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان تاریخی اور دیرپا تعلقات پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ صحرا کی صحیح تفہیم واضح کرتا اور قدیم اور مستند تاریخ کو بھی یاد کر ر ہا ہے۔

صحرا کے متعلق علم میں اضافہ

اپنے اس سفر کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مار ک ایونز نے بتایا کہ ٹیم صحرا کے بارے میں اپنا علم بڑھانے کے لیے فیلبی کی مہم کی طریقہ استعمال کرے گی۔ کیونکہ ہم اہم بین الاقوامی سائنسی منصوبوں کے لیے تحقیق کرتے ہیں۔ یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری دنیا کیسے تیار ہوئی ہے۔ اس نقطہ نظر سے ہم مستقبل کے متعلق سیکھتے ہیں۔ ایسا سفر ہمیں دنیا کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی طرف لے جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ٹیم نے چاند پر جانے والے ایکسپلوررز کلب کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو صرف ان مہمات کو دیا جاتا ہے جن کا مقصد انسانی معلومات کو بڑھانا ہوتا ہے۔ ہماری ٹیم بھی بڑے منصوبوں پر کام کرے گی۔ سخت ماحول اور دور دراز مقامات کی نفسیات کو جاننے میں مدد ملے گی۔ اسی سے متعلق جو کوونٹری یونیورسٹی کے ناتھن سمتھ کی سربراہی میں DRIFT پروجیکٹ پر بھی کام کیا جائے گا۔ یہ پروجیکٹ انتہائی الگ تھلگ ماحول میں رہنے کے نفسیاتی اثرات پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس پرو جیکٹ کا مقصد ایک ایسا خود معاون آلہ تیار کرنا ہے جو انسانوں کو چاند یا مریخ پر زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔

انہوں نے بتایا ہماری ٹیم ’’ کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘‘ کی قیادت میں ایک پروجیکٹ "بیٹ ڈسٹری بیوشن" پر بھی کام کرے گی۔ چمگادڑوں کی 30 سے زائد اقسام جزیرہ نما عرب میں رہتی ہیں اور وہ صحرائی ماحول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آخر میں "گرین عرب " پروجیکٹ کے تحت صحرا میں پائے جانے والے نمونے ریکارڈ میں لائے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں