برلن جرمنی میں مزید امریکی ہتھیار بنانے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس نے بدھ کو کہا ہے کہ جرمنی امریکہ سے دفاعی صنعت کے روابط کو وسعت دینے اور ملک کے کارخانوں میں امریکی ڈیزائن کردہ مزید ہتھیار تیار کرنے کی امید کر رہا ہے۔

جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ رقم خرچ کرنے کے لیے اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں تو یہ منصوبہ سات اور آٹھ جولائی کو ترکی میں نیٹو کے ایک بڑے سربراہی اجلاس سے بالکل پہلے سامنے آیا ہے جہاں یورپی فوجی توسیع پر توجہ مرکوز رہے گی۔

"ہم جانتے ہیں کہ امریکی پیداواری صلاحیتیں محدود ہیں اور انہیں بڑھانے کی فوری ضرورت ہے،" پسٹوریئس نے چانسلر فریڈرک مرز اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ صحافیوں کو بتایا۔ انہیں برلن میں کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔

پسٹوریئس نے مزید کہا، "اسی لیے ہم یہاں جرمنی میں کچھ سسٹمز یا ان کے اجزاء کی تیاری میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔"

جنگوں اور عالمی بحرانوں کے درمیان کلیدی امریکی ہتھیاروں خاص طور پر میزائل اور پیٹریاٹ سسٹم جیسے انٹرسیپٹرز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور ایسے ہتھیاروں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں جن کا یوکرین اور شرقِ اوسط میں بہت زیادہ استعمال دیکھا گیا ہے۔

اسی دوران جرمنی اور نیٹو کے دیگر یورپی اتحادی اپنی ہتھیاروں کی صنعتوں کو مزید ترقی دینے اور امریکی ساختہ سامان پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کی طرف سے امریکہ کے یورپ کی سلامتی کے عہد پر بار بار سوالات نیز ٹرمپ کے ٹیرف اور گرین لینڈ کے ڈنمارک کے علاقے پر قبضہ کرنے کی دھمکیوں جیسے شدید تر تنازعات اس تبدیلی کی وجہ ہیں۔

"زیادہ آزادی کے مطالبے کے درمیان کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ہم امریکی نظام کو چھوڑنا چاہتے ہیں،" پسٹوریئس نے زور دیا اور کہا کہ امریکہ کے تیار کردہ ہتھیار ایسے ہیں جو یورپ تیار نہیں کرتا لیکن "جن کی ہمیں اگلے پانچ سے 10 سالوں میں فوری ضرورت ہے۔"

اپنی طرف سے نیٹو کے رہنما نے جرمنی کی جانب سے اپنی فوج اور ہتھیاروں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔

روٹے نے کہا، نیٹو سربراہی اجلاس "اضافی اخراجات کو جنگی صلاحیتوں میں تبدیل کرنے اور ہماری دفاعی صنعتوں کو نمایاں طور پر بڑھانے پر مرکوز ہو گا۔ جرمنی ایک طاقتور صنعتی ملک ہے جس میں بڑی دفاعی کمپنیاں اور عالمی سطح کے تحقیقی ادارے ہیں۔"

روٹے نے مزید کہا، اگر یوکرین میں جنگ ختم ہو جائے تو بھی "روس یورو-اٹلانٹک سکیورٹی کے لیے ایک طویل مدتی خطرہ رہے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں