سعودی عرب کے تاریخی علاقے الاحساء کو مختلف روایتی پیشوں اور فنون کا مرکز کہا جاتا ہے۔ یہاں پرصدیوں پرانے فنون میں ایک فن اور پیشہ ’چٹائی سازی‘ بھی ہے۔
الاحساء کے ایک بزرگ صالح عبدالحمید بھی چٹائی سازی کے پیشے سے منسلک ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کے 70 برس اس کام میں گذار دیے ہیں۔
صالح حمید اب عمر کے آخری حصے میں ہیں مگران کی اپنے اس دیرینہ پیشے کے ساتھ مجبت آج بھی جوان ہے۔ انہیں یہ پیشہ ورثے میں ملا اور پوری زندگی اس کے ساتھ وفا کی۔
الاحساء کےنواحی علاقے ’الجرن‘ کے رہائشی صالح حمید نے چٹائی سازی کا کام اس وقت شروع کیا جب وہ نو عمر تھے۔ وہ مساجد میں بچھائی جانے والی چٹائیاں بنانے کے ساتھ ساتھ گھروں کے فرشوں پر بچھانے کے لیے چٹائیاں تیار کرتے۔ چٹائیوں کی تیاری کے لیے صالح زیادہ تر ’اسل‘ نامی پودے کے پتوں اور ٹہنیوں کا استعمال کرتے۔
صالح عبدالحمید کے والد اور والدہ دونوں اس پیشے سےمسلک تھے۔ صالح نے یہ پیشہ اس وقت اپنایا جب اس کے کچھ ہی عرصے بعد بانی سعودی عرب شاہ عبدالعزیز آل سعود مرحوم بھی الاحساء کے دورے پر آئے۔
صالح حمید نے نہ صرف خود اس پیشے کوآگے بڑھایا بلکہ انہوں نے اپنے گاؤں کے دوسرے لوگوں کو بھی یہ فن سکھایا۔
الاحساء کا علاقہ ’الجرن‘ چٹائی سازی کا پرانا مرکز رہا ہے اور اس کا شمار پورے خلیج عرب کے دو سو سال پرانے چٹائی سازی کے مرکز کے طور پرہوتا تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ فن دم توڑ گیا مگر صالح عبدالحمید نےاسے زندہ رکھا اور دوسروں کوبھی منتقل کیا۔
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘کے ساتھ اپنے انٹرویو میں صالح کا کہنا ہے کہ الاحساء میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں پانی جمع ہوتا ہے اور اس کے اطراف میں "اسل" نامی پودا اگتا ہے۔ یہ پودا ہی ہمارے کام آتا ہے۔ اسے کاٹ کر خشک جگہ پرپھیلا دیا جاتا ہے اور پندرہ دن تک اسے خشک کیا جاتا۔ اس کے بعد اسے چٹائی بُننے میں استعمال کیا جاتا۔
ان کا کہنا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اب اس پودے کی پیداوار کم ہو رہی ہے۔ اس پیشے کا رواج کم ہونے کی اور بھی وجوہات ہیں۔ ان میں ایک وجہ جدید قالین کی صنعت بھی ہے۔ آج کے دور میں مساجد اور گھروں میں جدید قالین بچھائے جاتے ہیں۔
کاریگر "صالح" نے مزید کہا کہ ان کی تیار کردہ چٹائیوں کو اب صرف ثقافتی ورثے کی اشیا کے طورپر خریدا جاتا ہے۔ اس لیے اب یہ منافع بخش کام نہیں رہا۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلاف کے پیشے کو محفوظ رکھا جائے ساتھ تھوڑی بہت گھریلو ضروریات بھی پوری کرلی جائیں۔
ایک سوال کے جواب میں صالح عبدالحمید نے کہا کہ حصیر سازی کسی دور میں ایک باقاعدہ پیشہ تھا۔ تب کئی طرح کی چٹائیاں اور مختلف ساز اور حجم کی چٹائیاں بنائی جاتی تھیں۔ بعض کی لمبائی دس فٹ تک ہوتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سرکنڈوں کی چھڑیوں کو پانی میں بھگو کر ان پرموجود نجاست صاف کرتے۔ کچھ عرصہ قبل تک ہم کھڈی پر چٹائی تیار کرتے۔ چٹائی کے کئی حصے ہوتے تھے اور ان حصوںکو"الحف، الزائز، ام سدیہ، مرافع اور حباس کا نام دیا جاتا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ الاحساء کا شمار’یونیسکو‘کی فہرست میں موجود ان شہروں میں شامل ہے دستکاریوں اور لوک فنون کے لیے مشہور ہیں۔
-
سعودی عرب کی 59 فی صد خواتین تخلیقی پیشوں وابستہ
سائنس کے میدان میں خواتین اور لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر سعودی عرب میں خاندانی ...
ایڈیٹر کی پسند -
ترکیہ میں 6 دن کے بعد ملبے تلے دبی بچی عائشہ بازیاب: ریسکیو آپریشن ’’العربیہ‘‘ پر نشر
ترکی کے شہر قہرمان مرعش میں ہفتے کے روز 6 دن سے ملبے تلے دبی 7 سالہ بچی عائشہ کو ...
ایڈیٹر کی پسند -
آفٹر شاک بدتر ہوسکتا، ماہرین نے گھر کے محفوظ مقامات کی نشاندہی کردی
گھر کے اندر پناہ لینے کے لیے بہترین اور بدترین مقامات کون کون سے ہیں
ایڈیٹر کی پسند