سعودی عرب کی 59 فی صد خواتین تخلیقی پیشوں وابستہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

سائنس کے میدان میں خواتین اور لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر سعودی عرب میں خاندانی امور کی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ مملکت میں 59 فی صد خواتین جدید پیشوں اور تخلیقی شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ اس طرح خواتین مارکیٹ اور سائنسی قدر کی منفرد خدمات فراہم کرنے کے ساتھ سماجی طبقات کےلیے خدمت انجام دیتی ہیں۔

کونسل نے بتایا کہ سائنس کے میدان میں خواتین کی علمی کامیابیاں کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 34.1 فی صد فزیکل سائنسز میں 30.7 فی صد، بائیولوجیکل سائنسز میں 18.9 فی صد، ریاضی اور شماریات میں 13.3 فی صد اور انجینئرنگ اور فن تعمیر کے شعبے میں 2.7 فی صد خدمات ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 100 خواتین ٹیلنٹ نے اس سال سائنس اور انجینیرنگ تخلیقی نمائش 2023 میں ایوارڈز جیتے۔ مختلف میڈیکل، کیمیکل، انجینیرنگ، توانائی، پلانٹ سائنسز، مائیکرو بیالوجی، روبوٹکس اور سمارٹ ڈیوائسز کے شعبوں میں خواتین نے نمایاں خدمات انجام دیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2015ء میں ہر سال 11 فروری کو سائنس وتحقیق کے میدان میں کام کرنے والی خواتین کے بین الاقوامی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ عالمی سطح پر نوجوان لڑکیوں کے دن کو سعودی عرب میں بھی بھرپور طریقےسے منایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں