سرزمین حجاز میں آل سعود خاندان کی حکومت کے قیام کے بعد ہرآنے والے خادم حرمین شریفین نے اللہ کے عظیم گھر کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور حرمین شریفین میں گہری دلچسپی لی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود مرحوم کے دور میں ان کی ذاتی دلچسپی کے تحت خانہ کعبہ کا ایک دروازہ بنایا گیا۔
ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر سعد الراشد نے کہا کہ جب شاہ عبدالعزیز نے مملکت کو متحد کیا تو ان کی پہلی فکر حرمین شریفین کی توسیع تھی۔ انہیں مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر، دیکھ بھال اور ترقی میں گہری دلچسپی تھی۔
چنانچہ حرمین شریفین کی ترقی اور توسیع کا جو سلسلہ بانی مملکت شاہ عبدالعزیز آل سعود کےدور میں شروع ہوا وہ آج کے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں بھی جاری و ساری ہے۔