پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان معاہدے پر حزب اللہ کے رد عمل سے قبل ہی "بیروت کی منظوری کے لیے اپنی شرائط" کا اعلان کر دیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق قاآنی نے آج جمعرات کے روز کہا کہ لبنان میں بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیل ان مقامات پر واپس چلا جائے جن پر وہ 28 فروری کو ایران پر کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ شروع ہونے سے پہلے قابض تھا۔
ایرانی کمانڈر نے مزید کہا کہ لبنانی جنگجو جلد ہی "مزاحمت کے ثمرات" حاصل کریں گے۔
یہ پیش رفت لبنانی صدر جوزف عون کے آج کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جس جنگ بندی تک ملک پہنچا ہے اور جس میں امریکہ نے ثالثی کی ہے، وہ تمام متعلقہ فریقوں کی منظوری کے 24 گھنٹوں کے اندر نافذ ہو سکتی ہے۔
عون کے مطابق تمام متعلقہ فریقوں کے رد عمل اور عمل درآمد کی ضمانتوں کا انتظار ہے اور حتمی منظوری کے 24 گھنٹوں کے اندر عمل درآمد شروع ہو سکتا ہے۔ اس بیان میں اشارہ حزب اللہ کی جانب تھا جس نے واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کے بعد جنگ بندی کے اعلان پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز واشنگٹن میں اعلان کردہ نئے معاہدے کے تحت، لبنانی فوج کو جنوب میں اراضی کے ایک حصے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے اور حزب اللہ کے عناصر کا وہاں سے انخلاء ہونا ہے۔
گذشتہ اپریل میں اعلان کردہ ایک جنگ بندی کا معاہدہ، جسے بعد ازاں امریکی درخواست پر توسیع دی گئی تھی، جھڑپوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اس لیے کہ اسرائیل نے جنوب اور بقاع (مشرقی لبنان) پر اپنے فضائی حملے جاری رکھے۔ نیز حزب اللہ نے جنوب میں اسرائیلی فوجیوں کے خلاف حملے جاری رکھے اور شمالی اسرائیل کی جانب ڈرون حملے کیے۔
-
کاٹز نے لبنان میں ''اسرائیلی شرائط ''کو سراہا، بن گویر کی تنقید
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے امریکی سرپرستی میں لبنان کے ساتھ طے پانے والے ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں یونيفل کی پوزیشن کو نشانہ بنا دیا:اسرائیلی فوج کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ نے لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کا قصبہ دبين سے انخلاء... اور لبنانی فوج داخل ہو گئی
لبنان کے جنوب اور مشرق میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران ...
بين الاقوامى