سعودی فنکار کیسے تاریخی مقامات کو ’’منی ایچر آرٹ ‘‘ میں بدل رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کے منی ایچر آرٹ کے ماہر آرٹسٹ جاسم محمد اپنے فن کا لوہا خوبی سے منوا رہے ہیں۔ جاسم محمد متاثر کن انداز میں سعودی ورثہ کے مقامات اور اشیا کو چھوٹے سائز میں مجسم کرنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ وہ حقیقی چیز کی نقالی اس خوبصورتی سے کرتے ہیں کہ اصل چیز کی چھوٹی تفصیلات کو بھی اپنے فن کے نمونے میں سمو دیتے ہیں۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں سعودی مصور نے بتایا کہ وہ اپنے فن پاروں کو اپنی ترغیب سےیا آثار قدیمہ کی یادگاروں اور مشہور مکانات سے ڈیزائن کرتے ہیں۔ میں نے اب تک جن نمایاں مقامات کے فن پارے تیار کیے ہیں ان میں الاحساء کے ورثے کے مقامات ہیں۔ میں تاریخی قیصریہ بازار، قدیم ابراہیم محل، دروازہ العلیمی، اور امیریہ سکول کے فن پارے بنا چکا ہوں۔

52
52

ان کے نمونے خوبصورتی، سجاوٹ، مجسمہ سازی اور تاریخ کو لیے ہوئے ہیں۔ جاسم محمد چھوٹی چھوٹی تفصیلات جیسے گھریلو برتنوں، اعداد و شمار اور قدیم ٹکڑوں کی عکاسی کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔ان کی تخلیقات کی قیمتیں 500 ریال سے لے کر پانچ ہزار ریال تک ہیں۔ قیمت کے اس تفاوت کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کام کی جمالیات کی بے حد قیمت ہے۔ اس کی حقیقت سے قربت، اس کی درستگی اور اثرات، تخلیقی صلاحیتوں کی سطح اور اس کی شکل کی فراوانی ایسے عناصر ہیں جو قیمت کا تعین کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

جاسم محمد ماڈل کے لیے درکار ٹولز تیار کرکے، تصویر کو محفوظ کرکے اور پھر پیمائش کرکے اپنا کام شروع کرتے ہیں ۔ہر ماڈل کا ایک مخصوص وقت ہوتا ہے۔ اس کے سائز اور طول و عرض کے مطابق اس کی تیاری میں وقت لگتا ہے۔ کچھ ماڈل دو گھنٹے میں مکمل ہوجاتے ہیں۔ کچھ ماڈلز کو تیار کرنے میں 24 گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں اور کچھ ماڈلز اپنی تیاری میں تین دن تک لے لیتے ہیں۔

53
53

جاسم محمد نے بتایا کہ اس آرٹ کے اوزار کمپریسڈ لکڑی اور کارک، برلیپ کے ٹکڑے، ٹہنیاں، پلاسٹک، جپسم، سیمنٹ، مٹی اور ایکریلک رنگ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ "منی ایچر آرٹ" کے لیے ڈیزائننگ کے ذریعے مشق کرنے کے خواہشمندوں کو تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ لوگ روزانہ ماڈل بناتے ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور ان میں نکھار آتا جاتا ہے۔

جاسم محمد نے کہا میں بچپن سے ہی اس فن کا شوقین تھا۔ خاص طور پر ابتدائی سکول کے مرحلے میں مجھے ڈرائنگ کا مضمون بہت پسند تھا۔ اس وقت میں آٹے کا استعمال کرتے ہوئے اعداد و شمار بناتا تھا۔ اس عرصے کے دوران میں نے کئی شکلیں تیار کیں۔ سعودی فنکار نے بتایا کہ میرا مقصد ثقافتی ورثے، تاریخی یادگاروں اور مٹی کے پرانے مکانات سے محبت کا اظہار بھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size